وحید مراد دو اکتوبر کو پیدا ہوئے تھے۔ اگرچہ ان کے انتقال کو 25 برس گزر چکے ہیں لیکن وہ اب تک شائقینِ سینما کی یادوں میں زندہ و جاوید ہیں۔
وحید مراد فلمی دنیا میں پروڈیوسر بن کر آئے تھے، تاہم جلد ہی وہ کیمرے کے سامنے بھی آ گئے۔ بہ طورِ ہیرو ارمان ان کی پہلی فلم تھی، جس نے انھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اور ان کے لباس، بالوں کی تراش اور لب و لہجہ عوام میں بے حد مقبول ہوئے۔
اس فلم سے وحید مراد رومانوی ہیرو کے روپ میں سامنے آئے اور لوگوں نے انھیں چاکلیٹ ہیرو کہنا شروع کر دیا۔ احمد رشدی کی آواز خاص طور پر وحید مراد پرسجتی تھی۔ موسیقار سہیل رعنا ان کے لیے جو نغمے ترتیب دیے ان سے تیز اور شوخ موسیقی کے نئے عہد کا آغاز ہوا۔ اور وحید مراد کو برصغیر کے پہلے راک اینڈ رول ہیرو کا خطاب دیا گیا۔
تاہم تمام کامیابیوں کے باوجود وحید مراد کی زندگی کا آخری حصہ مایوسیوں میں گزرا، زیبا، شبنم، اور نشو جیسی ہیروئنوں نے ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے ان کی کئی فلمیں باکس آفس پر ناکام ہو گئیں۔
وحید مراد کا انتقال 1983ء کو ہوا۔ ان کی دو فلمیں ہیرو اور زلزلہ ان کی موت کے بعد ریلیز ہوئیں۔