بھارت کے مشہور صنعت کار انل امبانی کی فلم کمپنی ’ریلائنس بِگ اینٹرٹینمنٹ‘ نے حال ہی ہالی وڈ کے مشہور فلم ساز اسٹیون اسپیل برگ کی کمپنی ڈریم ورکس ایس کے جی کے ساتھ 15 کروڑ روپے کا معاہدہ سائن کرکے بالی وڈ میں ایک نئی تاریخ مرتب کی تھی۔
اس حکمت عملی کے تحت انل ہالی وڈ فلم ساز اسپیل برگ کے اشتراک سےایک فلم اسٹوڈیوقائم کرنا چاہتے ہیں جس میں وہ بڑے حصہ دار ہوں گے۔
امبانی کی فلم کمپنی ’ریلائنس بِگ اینٹرٹینمنٹ‘ نے بیان دیا ہے کہ آئندہ سال جنوری 2009ء سے اِس مشترکہ پروجیکٹ کے تحت فلم سازی کا کام شروع ہو جائے گا۔ لاس اینجیلس میں بنائے کیے جانے والے اِس مشترکہ اسٹوڈیو میں عالمی سنیمابینوں کے لیے اگلے چھ سال تک 36 فلمیں بنائی جائیں گی۔ واضح رہے بھارت کے فلمی تجارتی حلقوں میں اِس مشترکہ معاہدہ کو بالی وڈ کی بہت بڑی کامیابی مانا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر مقبول جیوراسک پارک، ای ٹی، شنڈلرز لسٹ اورسیونگ پرائیویٹ رائن جیسی کامیاب فلموں کے ڈائریکٹر اسٹیون اسپیل برگ کو تین مرتبہ آسکر ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے۔ جب کی انل امبانی کی کمپنی موبائل ، ٹیلی کام ، بجلی اور فائنا ئنس کے شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھنے کے بعد ایڈ لیبز فلمز کمپنی کو خرید کرفلم سازی کے شعبے میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اب انل امبانی کے ساتھ کیا گیا تجارتی معاہدہ کتنا کامیاب ہوتا ہے اس کے لیے تھوڑا اورانتظار کرنا ہو گا۔
انل امبانی کی ایڈ لیبز فلمز کمپنی نے حال ہی میں امریکہ میں 250 سنیما گھر اورملیشیا میں 51 سنیما گھرخرید کر اپنی کمپنی میں شامل کر لیے تھے۔ جہاں ہندی فلم انڈسٹری کو عالمی فلمی افق پر آب وتاب کےساتھ چمکنے کے لیے ہالی وڈ کا سہارا چاہیے اسی طرح مغربی ملکوں کے فلم سازوں کو موجودہ مالی بحران کو دیکھتے ہوئے پیسوں کے فقدان کو دور کرنے کے لیے بھارتی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کی ضرورت ہے۔