سروں کی ملکہ اور بالی وڈ کی دھڑکن لتا منگیشکر نے گذشتہ ہفتے اپنی 80 ویں سالگرہ اپنی پونہ کی رہائش گاہ پر بڑی سادگی کے ساتھ منائی۔ گزشتہ سات عشرے سے بالی وڈ کی دنیا میں لتا کی آواز کا کوئی ثانی نہیں۔ بھارت کی ’نائٹ انگیل‘ کی آواز کسی سرحد یا بندش کی محتاج نہیں، لتا کی آواز کے دیوانے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اُنہی میں سے ایک ہیں سمن چورسیا جو لتا کی سالگرہ کے موقعے پر اُن کے گانوں کے 28 ہزار گراموفون ریکارڈوں کو نمائش کے لیے پیش کیا ۔
چورسیا نے اپنی ذندگی کی ساری کمائی لتا کے گانوں کے ریکارڈ خریدنے میں صرف کر دی۔ چاہے وہ گانے ہو یا قوالی یا پھر کوئی صوفیانہ کلام، چورسیا کے 1600 مربع فٹ رقبے میں پھیلے ’ لتا دینا ناتھ منگیشکر گراموفون ریکارڈ میوزیم‘ میں میلوڈی کوئن کا ہر نغمہ موجود ہے۔
لتا کی روح کو تراوٹ بخشنے والی آواز کے لاکھوں شیدائی بھلے ہی اپنے منفرد انداز میں اُن کی سالگرہ مناکر بے مثال گلوکارہ کی فنی عظمت کوخراجِ عقیدت پیش کر رہے ہوں پر خود لتا ایک سادگی پسند شخصیت ہیں۔
ملک کے اعلیٰ ترین ایوارڈ بھارت رتن سے سرفراز شدہ لتا کی آواز کا موازنہ بالی وڈ کے دیگر گلوکاروں سے نہیں کیا جا سکتا۔ فلمی سفر کے ابتدائی دور میں لتا کی آواز کو نورجہاں، ثریا اور شمشاد بیگم جیسی کامیاب گلوکاراؤں کے مقابلے میں کمزور کہا گیا۔ تاہم گزرتے وقت کے ساتھ لتا نے اپنی سحر انگیز گائیکی سے فلم نقادوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ اور آج اُن کی شہرت کا عالم کچھ ایسا ہے کہ بھارت کی بیس زبانوں میں 50 ہزار سےزائد نغموں کو اپنی آواز دینےوالی لتا کو ملنے والے ایوارڈ اور خطاب کی فہرست بنائی جائے تو کئی اوراق پُر ہو جائیں۔
اپنی سالگرہ کے موقعے پر لتا پونہ شہر میں اُن کے والد کی یاد میں بنائے گئے ’دینا ناتھ منگیشکر اسپتال‘ کو مزید وسیع کرنے کے منصوبے کو لوگوں کے سامنے بہت جلدپیش کرنے کا اعلان کیا۔