امریکی محکمہ انصاف نے وفاقی تفتیش کاروں کے لیے متنازع نئے راہنما اصولوں
کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت تفتیش کاروں کوقومی سلامتی کے خطرات کی چھان
بین کی اسی طرح اجازت ہوگی جس طرح وہ کسی مجرمانہ سرگرمی کے بارے میں کرتے
ہیں۔
اٹارنی جنرل مائیکل موکاسے اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ ملر نے
کہاہے کہ نئے راہنما اصول ایف بی آئی کی کارروائیوں کے لیے زیادہ واضح اور
زیادہ سادہ اصول فراہم کرتے ہیں۔
سینٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے چیئر مین
ڈیموکریٹک رکن پیٹرک لیہے نے نئے ضابطوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ان سے
وفاقی اہل کاروں کو امریکیوں کے بارے میں کسی غلط کام کی نشاندہی
کےبغیرتفتیش کا وسیع تر اختیار مل جائے گا۔
انسانی حقوق کی ایک تنظیم
امریکن سول لبرٹیز یونین نے اس بارے میں خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اہل کار
نسل یامذہب کی بنیاد پر کسی نئی تفتیش کا آغاز کرسکیں گے۔
ایف بی آئی اور
محکمہ انصاف نے کہاہے کہ انہیں یقین ہے کہ نئے ضابطوں سے ایف بی آئی کو
اپنے فرائض کی انجام دہی میں مدد ملے گی جب کہ پرائیویسی اور شہری آزادیوں
کا تحفظ بھی برقرار رہے گا۔