بلوچستان میں تین ماہ میں عزت کے نام پر قتل کے 24واقعات ہوئے ہیں: عورت فاؤنڈیشن
نصیر کاکڑ کوئٹہ October 4, 2008
ایک غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے جنوب مشرقی اضلاع نصیر آباد اور جعفر آباد میں تین ماہ سے کم عرصے کے دوران عزت کے نام پر قتل کے 24واقعات ہوئے ہیں۔
اِن واقعات میں، 24خواتین اور 11مردوں کو ہلاک کیا گیا۔
تنظیم کے عہدے دار علا الدین خلجی نے بتایا کہ یہ واقعات علاقے میں خاندانی ناموس کے نام پر پانچ خواتین کو مبینہ طور پر زندہ درگور کرنے کے مشہور واقعے کے بعد پیش آئے ہیں۔
اُن کے بقول، یہ اعداد و شمار مقامی ذرائع ِ ابلاغ اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کے ذریعے اُنہیں حاصل ہوئی ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ، ’اطلاعات کے چار ذرائع ہیں۔ ہمارے پاس ڈیٹا پولیس ذرائع سے ہمارے پاس آتا ہے۔ دوسرا ہمارے پاس میڈیکو لیگل ہے۔ تیسرا ہمارے پاس دارالامان وہاں پر بھی خواتین کے بیشتر کیس آتے ہیں اور چوتھا اہم ذریعہ اخبارات سے ہمیں تفاصیل ملتی ہیں جس میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ کیس ہوتے ہیں۔ مذکورہ علاقے سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر صادق عمرانی نے ان واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بدکاری کے نام پر قتل بلوچ روایات کا حصہ ہیں جو صدیوں سے چلا آرہا ہے۔
واقعات کے دو پہلو ہیں، ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پر جو پرانا قبائلی نظام چلا آرہا ہے وہ پاکستان سے پہلے، بلکہ سات سو برس پہلے سے مروجہ ہے، اِس میں روایات چلی آ رہی ہیں
تاہم علاقے کی پولیس انتظامیہ سےاِس بارے میں رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ ہو سکی۔
یاد رہے کہ اس سال 14جولائی کو نصیرآباد کے علاقے بابا گوٹھ میں پانچ خواتین کو عزت کے نام پر قتل کیا گیا تھا جن میں دو کی لاشیں برآمد کی گئیں اور قتل کے الزام میں 11افراد کو گرفتار کیا گیا۔
نئے واقعات کے بارے میں علاقے کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔