نیپال میں قدیم روایات کی پابندی کرتے ہوئے ایک تین سالہ بچّی کو باقاعدہ ’زندہ دیوی‘ کا درجہ عطا کر دیا گیا ہے۔
ماتینا شاکیہ کو آج منگل کے دن اس کے گھر سے لے اس آراستہ و پیراستہ مندر لے جایا گیا ہے ، جہاں وہ بلوغت تک بطور دیوی قیام کرے گی۔ بالغ ہونے کا بعد اس سے دیوی کا اعزاز واپس لے لیا جائےگا۔
نئی کمسن دیوی سابقہ دیوی کماری پریتی شاکیہ کی جگہ لےگی جو بالغ ہونے کے بعد اس مرتبے کو چھوڑ رہی ہے۔
نیپالی روایت کے مطابق تین چار سال کی بچّی کو اس منصب کے لیے منتخب کیا جاتا ہے اور پھر پروہت اس کو مندر میں لے آتے ہیں، جہاں ہندو اور بدھ مت کے پیروکاراس کی پوجا کرتے ہیں۔
ماضی میں نیپال کے بادشاہ بھی اس کمسن دیوی کے آشیر باد سے ملک پر حکومت کیا کرتے تھے۔ ملک سے بادشاہت کے خاتمے کے بعد اب نیاصدراس دیوی سےآشیرواد لے کرنظامِ حکومت چلائے گا۔
نئی دیوی ماتینا شاکیہ کے والد نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اب ان کی بیٹی ان کے ساتھ نہیں رہ سکے گی، تاہم وہ اس انتخاب پر بہت نازاں ہیں۔ بچّی کے گھر والے مندر جاکر اس سے مل سکتے ہیں مگر وہ بیشتر وقت تنہائی میں گذارے گی۔
واضح رہے کہ اگست میں نیپال کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ اس مرتبے کے لیے منتخب ہونے والی بچّی کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی لازمی ہے، جس میں اسکول کی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں وغیرہ شامل ہیں۔