افغان حکومت نے طالبان کے ساتھ بات چیت کی تردید کردی
October 7, 2008
افغانستان کے صدارتی ترجمان ہمایوں حمیدزادہ
افغان حکومت نے اِن رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ سابق طالبان عہدے داروں کے نمائندوں نے گذشتہ ماہ کے آخر میں افغان حکومت کے عہدے داروں سے ملاقات کی تھی، جو سعودی عرب کے شاہ کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کا حصہ تھا۔
صدارتی ترجمان ہمایوں حامد زادہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صدر کرزئی نے شاہ عبداللہ سے اس نوعیت کی بات چیت کا اہتمام کرنے کی درخواست کی تھی تاہم اُس پر اب بھی عمل نہیں ہوا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ حکومت حزبِ مخالف اور افغان عوام اور حکومت کے خلاف لڑنے والے افراد میں سے کسی کے ساتھ بھی بات چیت کرنے کو تیار ہے۔ لیکن اب تک ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔
علاقے کی میڈیا رپورٹوں میں طالبان کے ایک ترجمان کے حوالے سے بھی بات چیت کی تردید کی گئی ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے پیر کو نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ عراق کی طرح افغانستان میں بھی طویل المیعاد کلیدی تصفیوں میں سے ایسے افراد کے ساتھ افہام و تفہیم ہے جو حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں۔
سی این این نے پیر کو اطلاع دی تھی کہ سعودی شاہ عبداللہ نے 11 طالبان مندوبین اور افغان حکومت کے دو عہدے داروں کے درمیان چار روزہ بات چیت کی میزبانی کی ہے۔
سی این این نے بات چیت سے واقفیت رکھنے والے ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا تھا کہ طالبان القاعدہ کے ساتھ تعلقات ختم کرنے پر تیار ہوگئے ہیں۔
پشتون انتہا پسند جنوبی افغانستان کے کچھ حصوں میں سرگرم ہیں جہاں نہ صرف یہ کہ قبائلی اُن کے وفادار ہیں بلکہ وہ پوست کی کاشت بھی کرتے ہیں۔
صدر کرزئی کی جانب سے سعودی عرب سے ثالثی کی اپیل کے بعد طالبان لیڈر ملا عمر کے حوالے سےبتایا گیا تھا کہ اُنہوں نے اِس پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں 64،000 افراد پر مشتمل بین الاقوامی فوج کا سویت یونین والا انجام ہوگا جس نے 1989ء میں اپنی فوجوں کو واپس بلا لیا تھا۔