ہوم سیریز نیوٹرل گراؤنڈ پر نہیں کھیلنی چاہئیے: رمیز راجہ
سردار خان کراچی October 7, 2008
پاکستان میں سیکیورٹی کی ابتر صورتِ حال کی وجہ سے اس سال نہ صرف آسٹریلین کرکٹ ٹیم نے پاکستان آکر ٹیسٹ سیریز کھیلنے سے انکار کیا بلکہ آئی سی سی چمپینز ٹرافی ٹورنامنٹ کو بھی التوا کا شکار ہونا پڑا۔ اِس صورتِ حال میں بعض خلیجی ممالک نے پیش کش کی ہے کہ وہ پاکستان ٹیم کی غیر ملکی ٹیموں کے خلاف ہوم سیریز کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ اِس بارے میں جب پاکستان ٹیم کے سابق کپتان اور پی سی بی کے سابق چیف ایگزیکیوٹو رمیز راجہ سے اُن کی رائے پوچھی تو اُنہوں نے بتایاکہ ’میں اِن کے حق میں نہیں ہوں۔ ایک دفعہ ہم نے ایک تجربہ کر لیا ہے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ شائقین کی بھیڑ اور ہوم گراؤنڈ اگر نہ ہوں تو پھر سارا مزہ چلاجاتا ہے۔‘ ’میرا اپنا یہ خیال ہے کہ پاکستان کو اب یہ کرنا چاہیئے کہ ورلڈ الیون کو بلائے، جن کو پیسے دیے جائیں۔‘ اُنہوں نے کہا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ بین الاقوامی کھلاڑی یہاں آئیں اورورلڈ الیون پاکستان کے ساتھ میچ کھیلے۔ ’اِس سے یہ فرق پڑے گا کہ دنیا کو پیغام چلا جائے گا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے نہایت ہی مناسب ملک ہے، اور یہ کہ حالات خراب نہیں ہیں۔‘ رمیز نے مشورہ دیا کہ پی سی بی کو آئی سی سی الیون پر مؤثر نمائندگی کرنی چاہیئے، ’وہاں پر آپ اپنا مقدمہ مؤثر طور پر لڑیں گے تو بات بنے گی۔‘ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور انگلستان کرکٹ ٹیموں کے پاکستان آنے سے انکار کے بارے میں رمیز راجہ نےاظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا: ’آسٹریلیا، انگلینڈ کے پاکستان کے دورے تین یا چار سال میں ہوتے ہیں۔ درمیان میں ایشین بلاک کو یہاں آنا چاہیئے تاکہ کچھ نہ کچھ کرکٹ یہاں ہوتی رہے۔‘ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو صرف مغربی دنیا کے کھلاڑیوں پر ذہن مرکوز نہیں کرنا چاہیئے، کہ وہ یہاں آئیں گے تو پاکستان کرکٹ کی جان میں جان آئے گی۔ ’یہاں سری لنکا آئے گا، بھارت آئے گا، پھر بنگلہ دیش ہے، یا پھر جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز ہوگئے۔ تو یہ کہہ دینا کہ آسٹریلیا نہیں آیا۔ وہ تو پہلے بھی نہیں آئے تھے۔ ‘ رمیز راجہ نے کہا کہ کسی ایک ملک کے نہ آنے سے ہمت نہیں ہارنی چاہیئے، اورامید رکھنی چاہیئے کہ حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔