منشی پریم چند کی شخصیت ابتدا ہی سے تنازعات کے سائے میں رہی ہے
یوں تو منشی پریم چند کی شہرت اردو،ہندی کہانی کے رہنما کی حیثیت سے ہے۔ انہوں نے اپنی 35سالہ ادبی زندگی میں 300سے زائد کہانیاں اور ایک درجن ناول لکھے۔ ان کی کہانی” کفن“ کو اردو کہانی میں نئے موڑ کی حیثیت حاصل ہے۔ جب انہوں نے کہانی کو رومانیت سے نکال کر حقائق سے جوڑا تھا۔ اس کے علاوہ ان کی کہانیاں نشہ، عید گاہ اور شطرنج کے کھلاڑی کی بھی ادبی حیثیت مسلم ہے۔
لیکن 1980ء میں جب پریم چند پیدائش کی صدی منائی گئی تھی اس وقت اردو کے ایک غیر معروف تنقید نگار ابو محمد شبلی نے ایک مقالہ لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ آریہ سماجی ہونے کے سبب پریم چند مسلم دشمن نظریات رکھتے تھے اور ان کے افسانوں اور ناولوں کے جتنے بھی برے کردار ہیں وہ سب کے سب مسلمان ہیں۔ اس کے بعد بھارت کے ادبی حلقوں میں خاصی ہلچل مچی تھی اور ہر چھوٹے بڑے ادیب نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے ابو محمد شبلی کے افکار کی مذمت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پریم چند نے تو عوام کے دکھ اور کرب کو پیش کیا ہے اور یہ درد و کرب ہندو یا مسلمان نہیں ہو تا ہے۔ اس سلسلہ میں مانک ٹالا نے تین ضخیم کتابیں لکھی تھیں۔
اردو کے ایک اخبار ’عظیم آباد ایکسپریس‘ میں یہ بحث دو برسوں تک چلتی رہی تھی اور راقم الحروف نے اس سلسلہ میں معروف ادیب اوپندر ناتھ اشک کا ایک طویل انٹر ویو کیا تھا، کیوں کہ اشک کو پریم چند کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ انہوں نے اپنے انٹر ویو میں کہا تھا کہ پریم چندفرقہ پرست ہوں یا نہیں، ریا کار ضرور تھے۔ انہوں نے پہلی بیوی کے رہتے ہوئے دوسری شادی کر لی تھی اور پہلی بیوی کو بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’ہنس پریس‘ میں کام کرنے والے ملازمین کا بھی استحصال کیاتھا۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ وہ مفلوک الحالی کی موت مرے تھے، کیوں کہ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے پاس بک میں دس ہزار روپے جمع تھے اور 1938ء میں یہ بہت بڑی رقم تھی۔
راقم الحروف نے کراچی میں ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کا بھی ایک انٹر ویو 11اگست1951ء کو ان کی رہائش گاہ پر کیا تھا۔ اختر حسین رائے پوری کو بھی پریم چند کی قربت حاصل تھی۔ اس کا ذکر انہوں نے اپنی خود نوشت ’ گردراہ ‘ میں بھی کیا ہے: ”1932ء کی تعطیل میں کلکتہ جاتے ہوئے میں سنسکرت کی سند” ساہتیہ النکار“ کا امتحان دینے بنارس ٹھہرا۔ منشی پریم چند کو معلوم ہوا تو سامان اپنے گھر منگوا لیا۔ ان کی شخصیت میں ان کے فن سے کم عظمت نہ تھی۔ ان کی آنکھوں نے ”شب مالوا“ او ر”شام لکھنئو “کے بعد اب” صبح بنارس “ کا تماشہ دیکھا۔ یہ وہ شہر ہے جس پر حزیں جیسا بد دماغ ایسا شیدا ہوا کہ وہیں کا ہو رہا اور جس کی توصیف میں غالب نے چراغ دیر جیسی مثنوی تحریر کی۔ “( گردراہ۔صفحہ 80)
اختر حسین رائے پوری نے میرے سوالوں کے جواب میں واضح طور پر کہاتھا” پریم چند بے حد سیکولر انسان تھے۔ فرقہ پرستی تو ان کے قریب سے چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔ حالانکہ میری جب ان سے ملاقات ہوئی تو میں ایک طالب علم تھا، اس کے باوجود جب بھی بنارس جاتا تو وہ اصرار کرتے اور اپنے گھر ٹھہراتے تھے۔ یہاں تک کہ جب وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تشریف لائے وہاں ان کا قیام پروفیسر اشفاق احمد کے یہاں تھا اور جب ان کے اعزاز میں جلسہ رکھا گیا اور اشفاق صاحب نے ان سے پوچھا کہ وہ بھی کسی کو جلسہ میں بلوانا چاہتے ہیں تو انہوں نے صرف میرا نام دیا تھا۔ جب کہ میں وہاں ایک طالب علم تھا۔ “
اس انٹر ویو کی اشاعت کے بعد معترضین خاموش ہو گئے لیکن پریم چند پر دوسرا قضیہ اس وقت پیدا ہوا 2005ء میں جب ان کی 125ویں سالگرہ قومی سطح پر منائی گئی تو نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا او ربھارت میں دلت ادب سے وابستہ لوگوں نے اس بحث کا آغاز کیا کہ پریم چند دلت مخالف تھے، انہوں نے اپنے ناولوں اور افسانوں میں جتنے خراب کردار پیش کیے ہیں وہ سب کے سب دلت ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دلتوں کے لیے توہین آمیز زبان استعمال کی ہے۔ اس بار پھر جواب الجواب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ویسے تو اب یہ بحث ختم ہو گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پریم چند کے حقیقی نظریات اور افکار کی تفہیم اب تک نہیں ہو سکی ہے۔
منشی پریم چند جن کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ 31جولائی 1880ء کو اتر پردیش کے بنارس کے ایک قصبہ لمہی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد پوسٹل ڈپارٹمنٹ میں کلرک تھے۔ سات سال کی عمر میں ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا اور جب وہ 17سال کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور اس طرح سے پورے گھر کی ذمہ داری ان پر آگئی تھی۔ پریم چند نے غربت نہ صرف دیکھی تھی بلکہ اسے جھیلا بھی تھا۔ اسی لیے ان کے افسانوں اور ناولوں میں درد کی جیتی جاگتی تصویریں ملتی ہیں۔ نو ا کتوبر 1936ء کو 55سال کی عمرمیں بنارس میں ان کا انتقال ہو گیا۔ لیکن انہوں نے جو ادبی سرمایہ چھوڑا ہے اس پر سالہا سال تک بحث ہوتی رہے گی۔