اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی تفتیش نہیں کرے گی لیکن قتل کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے کمیشن بنانے پر پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان بات چیت جاری ہے۔
نیو یارک میں اپنی ماہانہ پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں سیکرٹری جنرل نے تفصیل بتانے سے گریز کیا اور اسے ’کسی قسم کا کمیشن‘ کہنے ہی پر اکتفا کی۔ البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا کہ یہ کمیشن تفتیش نہیں کرے گا۔
پریس کانفرنس کے بعد صحافیوں کے مزید سوالات پر انہوں نے کہا کہ ’ابھی اس میں کچھ وقت اور لگے گا لیکن یہ جلد ہوگا۔”
حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ سے سابق وزیر اعظم بھٹو کے قتل کی تحقیقات اسی طرز پر کرنے کی درخواست کی تھی جیسی لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کی ہو رہی ہیں۔
البتہ گذشتہ ماہ پاکستان کے صدر آصف زرداری اور سیکرٹری جنرل بان کی مون کے درمیان ملاقات کے بعد پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کو انٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ’تفتیش” کے بجائے پہلی دفعہ ’حقائق جاننے کے لیے کمیشن” کے الفاظ استعمال کیے۔
اگرچہ اس سلسلے میں کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا لیکن اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ صدر زرداری اور سیکرٹری جنرل کی ملاقات میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہوگا کہ اب اقوام متحدہ محترمہ بھٹو کے قتل کی تفتیش کے بجائے کمیشن قائم کرے جو قتل کے بارے میں حقائق کو سامنے لائے۔
مبصرین کے مطابق اقوام متحدہ اور پاکستانی حکومت دونوں ہی کو تفتیش سے مسائل کا سامنا ہوسکتا تھا۔ سلامتی کونسل کے تحت کی جانے والی تفتیش پر پاکستانی حکومت کا کوئی کنٹرول نہ ہوتا۔
دوسری طرف ایسے حالات میں جب خود بے نظیر بھٹو نے اپنی ہلاکت سے پہلے امریکی ٹی وی چینل سی این این کو ایک ای میل میں پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان کی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں، اقوام متحدہ ایسی کوئی تفتیش کرتے ہوئے ہچکچا رہی تھی جس میں اسے کسی کو مجرم ٹھہرانا پڑتا یا کسی پر الزامات لگانے پڑتے۔
مسٹر مشرف بش انتظامیہ کے قریبی حلیفوں میں شمار ہوتے تھے اور اگست میں اپنے عہدے سے استعفٰی دینے تک بش انتظامیہ ان کی حمایت کرتی رہی تھی۔
اگر صرف تحقیقاتی کمیشن بنتا ہے تو اس کا کام اتنا ہوگا کہ وہ ان تمام حقائق کو بیان کرے جو اس کے سامنے آئے ہیں۔ ان حقائق سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا یا اس کے تحت کوئی ایکشن لینا اس کی ذمہ داریوں میں شمار نہیں ہوگا۔
پاکستانی حکومت نے اس سال جولائی میں اقوام متحدہ کو اس قتل کی تحقیقات کی باقاعدہ درخواست دی تھی۔