گزشتہ ہفتے بش انتظامیہ کے سات کھرب ڈالرز کے بیل آوٹ پروگرام کے عوامی نمائندگان کی جانب سے منظور کیے جانے کے باوجود امریکی معیشت پرابتری کے بادل ابھی تک چھائے ہوئے ہیں صرف یہ ہی نہیں اس خدشے کے درست ہونے کے آثار بھی اب واضح ہونے لگے ہیں کہ امریکی معیشت کی اندرونی صورتحال باقی کی دنیا کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
گلوبلائیزیشن کے بڑھتے ہوئے اثر کا ایک اور تحفہ یا یوں کہہ لیں ثبوت اس وقت دنیا کے ایک کنارے سے لے کر دوسرے کنارے تک سٹاک مارکیٹوں کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہوا اقتصادی بحران ہے۔ کمزور اور مضبوط معیشت کسی تخصیص کے بغیریورپ ہو ، امریکہ یا ایشیا، عالمی منڈیوں میں پیش آنے والے بحران کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ جیسے پچھلے پیر کو یورپ کی منڈیوں میں ایک دن میں گھاٹے کی تاریخ کے اعتبار سے بدترین کارکردگی دیکھنے کو ملی۔ عالمی رہنماوں کی جانب سے اس بڑے پیمانے کے بحران کی روک تھام کی کوششیں بھی اثر انداز ہوتی نظر نہیں آرہیں اور اسی صورت حال کے باعث گزشتہ پیر کے روز کو بلیک منڈے کانام دیا گیا۔
ماہر اقتصادیات رے کاربون کا کہنا ہے کہ یہ خدشہ کہ امریکہ کی اقتصادی مشکلات نے دنیا بھر کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے اب بڑھتا جارہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس کی بنیاد امریکہ سے شروع ہونے والا معاشی بحران ہے جو کہ اب یورو زون تک پھیل چکا ہے اور اب وہ چین کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ، بھارت اور مشرق وسطیٰ تک بھی پہنچ رہا ہے۔
وال سٹریٹ کے تشویش میں مبتلا سرمایہ کار ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج گزشتہ چار سالوں میں پہلی مرتبہ دس ہزار پوائینٹز سے نیچے گر جانے کا باعث بنے۔ صدر بش نے حال ہی میں منظور کیے جانے والے رسکیو پلان کے کامیاب ہونے کے لیے کچھ صبر کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی۔
صدر بش کا کہنا ہے کہ مالیاتی نظام پر اعتماد بحال ہونے میں کچھ وقت لگے گا لیکن لوگوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ میرادستخط کردہ بل اس مسئلے کے حل کی کوشش کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
امریکی پارلیمنٹ میں قانون سازوں نے مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ماضی کے امریکہ کے چوتھے بڑے انویسٹمینٹ بینک لیہمن برادارز کے سابقہ چیف سے باز پرس کی۔ اور ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے چئیرمین ہینری ویکس مین نے ایک ایسے وقت میں جب کہ ان کی کمپنی حکومت سے مدد کی درخواست کرچکی تھی رخصت ہونے والے ایکزییکٹوز کو لاکھوں ڈالرز کی ادائیگی ممکن بنانے پر رچرڈ فلوڈ کو سخت برا بھلا کہا۔
ہینری ویکس مین کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ سسٹم آپ کے لیے تو فائدہ مند رہا لیکن باقی کے ملک اور ٹیکس دہندگان کے لیے نہیں جنہیں اب معیشت کو بچانے کے لیے سات کھرب ڈالرز دینے پڑیں گے۔
دوسری جانب فلوڈنے سنسنی خیز میڈیا کوریج اور ڈرے ہوئے سرمایہ کاروں کو اپنی کمپنی کی ناکامی کا ذمے دار قرار دیا۔ وجہ جو بھی ہو اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جہاں امریکہ کے مالیاتی بحران نے دنیا کو متاثر کیا ہے وہیں خراب عالمی مالیاتی صورتحال نے بھی امریکہ کی معیشت پر اپنا اثر چھوڑا ہے۔