Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

نیوزیم کی کارٹون گیلری


October 7, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

newseum

امریکہ کے ایک  سابق  صدر فورڈ نے کہا تھا کہ واشنگٹن میں کیا ہو رہا ہے جاننے کے تین ذرائع ہیں۔ ٹی وی ،اخبارات اور  Doonesburyکارٹون۔ عام طور پر بوجھل خبروں والے اخبار کا صفحہ پلٹتے پلٹتے  چہرے پر مسکراہٹ آجائے تو دوسرا سمجھ جاتا ہے کہ اخبار میں کوئی دلچسپ کارٹون شائع  ہوا  ہے۔ لیکن اخبار میں کارٹونز کا کیا کام۔ یہ معلوم کرنے کے لئے چلتے ہیں ایک ایسی آرٹ گیلری میں ،جسے امریکی اخبارات میں شائع ہونے والے مقبول کارٹونز سے سجایا گیا ہے۔

انہیں کون نہیں جانتا۔ یہ ہیں پوپائے دا سیلر۔ ایک  کارٹون کیریکٹر۔ مگر ٹی وی پر نمو دار ہونے سے پہلے یہ اخبارات میں جلوہ گر ہو چکے تھے  اور  اپنی بیگم  اورہری پالک کے پتوں کے ساتھ  خوب تہلکہ   مچا چکے تھے۔ اب ان کی تصویرموجود ہےنیوزیم کی ایک چھوٹی سی گیلری میں  ، ایسے بہت سے کرداروں کے ساتھ جواپنی مقبولیت کے دور میں  فلم ٹی وی کی سکرین سے لے کر روز مرہ کی چیزوں تک  ہر جگہ نمو دار ہو چکے ہیں۔

میڈیا کے ماہرین کے مطابق تصویروں کے ذریعے کہانی سنانے کا رواج قدیم مصر سے شروع ہوا۔ اٹھارویں صدی میں انگلینڈ اور انیسویں صدی میں جرمنی میں پہلی بار مزاحیہ تصاویر کے ذریعے سیاسی اور سماجی موضوعات پر ہلکی پھلکی چوٹ کا سلسلہ شروع  ہوا۔ امریکی اخبارات میں کارٹون کردار  بیسویں صدی کے آغاز پرشائع ہونے شروع ہوئے۔ جس میں غبارے کی مدد سے مکالمہ اور ٹوپی گرا کر حیرت کے اظہار کا طریقہ اختیار کیا گیا۔
 
ہم اس گیلری میں بتا رہے ہیں کہ کامکس کا آغاز کیسے ہوا۔ سب سے پہلا کامک 1895میں جوزف پولٹزر کے اخبار نیو یارک ورلڈ کے کارٹون پینل میں شائع ہوا تھا۔ اسے Hogans Alley کہا جاتا تھا۔ Hogans Alley کا کردار ایک پیلی قمیص پہنے رہتا تھا جس کی وجہ سے اس کا نام بھی yellow kid رکھ دیا گیا تھا۔ پیلے کپڑے پہنے یہ بچہ امریکہ کا سب سے مقبول مزاحیہ کارٹون تھا۔

اخبارات کو کارٹون کرداروں کی ضرورت کیوں پڑی۔  نیوزیم کی فنی پیجز گیلری کی ایگزیبٹ ڈائریکٹر کیتھی ٹروسٹ کہتی ہیں کہ  کارٹون کیریکٹرزبوجھل اور سنجیدہ خبریں پڑھنے والوں کے  چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کے کام  آتے ہیں اور ان کے کرداروں میں معاشرہ اپنے سیاسی اور سماجی مسائل کا آئینہ دیکھ سکتا ہے۔

اخبارات میں چھپنے والے کارٹون ہمیں ایک صدی سے زیادہ عرصے سے ہنسا رہے ہیں مگر ان کا کردار صرف ہنسانے پر مجبور کرنے سے بڑھ کر ہے۔ اکثرکارٹون کیریکٹرز  سیاسی یا سماجی حالات پر تبصرہ یا طنز لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ اکثر ہمیں ہماری ثقافتی تاریخ سے متعارف کراتے ہیں۔ اور وہ ہمیں ہر روز وہ کامک ریلیف فراہم کرتے ہیں جس کی ہم سبھی کو ضرورت ہوتی ہے ,ان بوجھل خبروں کو پڑھنے کے بعد جو ہمیں  ہر روزاخبارات میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔  اکثر  لوگ اخبارات میں چھپنے والے کامک کے دیوانے ہوتے ہیں

نیوزیم کی اس چھوٹی سی گیلری میں بلیک اینڈ وائٹ کارٹون کے دور سے لے کر سیاسی طنز والے ایڈیٹوریل کارٹونز مثلا Doonsberry ,Pogo،مہماتی کارٹون سیریز جیسے سپائیڈر مین ،ٹارزن ،بک راجرز ،جبکہ خاندانی زندگی پر مبنی کامکس  کے علاوہ   Little orphan annie، گارفیلڈ اور peanutsسمیت کئی مقبول عام کارٹون شامل کئے گئے ہیں۔

کیتھی ٹروسٹ کہتی ہیں کہ کارٹون لوگوں کی ہنسنے کی خواہش کااظہار ہوتے ہیں  اور اپنے دور کی ایسی تاریخ پیش کرتے ہیں  جس میں لوگ اپنا بھولا ہوا بچپن اور اس سے جڑی یادیں با آسانی دیکھ سکتے ہیں۔ اس لئے انہیں پسند کرنے والوں میں عمر کی کوئی قید نہیں۔ بعض کارٹون اخبارات  کی سرکولیشن میں اضافے کا سبب بھی  ہوتے ہیں۔ اس لئے  اخبار کے لئے کارٹون کے موضوع کا انتخاب  بے حد سوچ بچار کے بعد کیا جاتا ہے۔ ۔

آپ دیکھیں گے کہ اخبارکے  کارٹون کا موضوع بہت غورو فکر  اور بحث کے بعد چنا  جاتا ہے۔ ہمیں ایک ایڈیٹر نے بتایاکہ  قاری جتنا اس چیز میں دلچسپی لیتے ہیں کہ اخبار کے صفحہ اول پر کون سی خبر چھاپی گئی ہے یا اخبار کون سے سیاسی امیدوار کی حمایت کر رہا ہے ،،اتنے ہی قارئین کے تبصرے ہمیں اس چیز پر سننے کو ملتے ہیں کہ اخبار کون سا کارٹون یا کامک شائع کر رہا ہے۔ یا کون سا نیا کامک پرانی  کامک کے بدلے شروع کیا جائے۔ اخبار پڑھنے والے کارٹونز کے معاملے میں بھی خاصے  جذباتی ہوتے ہیں۔
کیتھی ٹروسٹ کہتی ہیں کہ  سیاسی موضوعات پر بنائے گئے کارٹونز کوبھی اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے جتنی کہ خود اس موضوع سے متعلق خبروں کو۔ لیکن وہ جو عالمی و ملکی سیاست اور روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے مسائل  کو اپنے کارٹونز کا موضوع بناتے ہیں۔ کیا وہ کوئی عام  سے فنکار ہوتے ہیں  ؟کیا اخبار میں چھپنے والے کارٹون۔ صحافت کی ہی ایک قسم نہیں  ؟

کیتھی کہتی ہیں کہ کچھ  کارٹونز صحافت  کی ایک قسم ہی ہوتے ہیں جیسے کہ ادارتی یا ایڈیٹوریل کارٹون۔ میرے خیال میں کچھ سیاسی کارٹونسٹ زیادہ تر ایڈیٹوریل کارٹونسٹ بھی ہوتے ہیں۔ جیسے کہ Gary Trudo۔ جو Doonesbury کارٹون بناتے تھے لیکن بہت سے کارٹونسٹ صرف آپ کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں اخبار کی دنیا میں یہ بڑی زبردست آزادی  ہے کہ اس کا کام صرف معلومات پہنچانا ہی نہیں بلکہ  تفریح مہیا کرنا بھی ہے

مگر کیتھی ٹروسٹ مانتی ہیں کہ  کارٹونسٹ کی یہ آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہےجہاں سے دوسرے کی آزادی شروع ہوتی ہے۔
 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ بھارت

  مزید خبریں
لاہور میں عالمی پرفارمنگ آرٹس میلے کے قریب بم دھماکے
القاعدہ عالمی مالیاتی بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں
اوباما سے مشرق وسطیٰ کی توقعات
ایلوس پریسلی مرنے کے 30 سال بعد بھی رائلٹی میں پہلے نمبر پر
آسٹریلیا  میں  امام  خواتین کے حقوق  کونظر انداز کر رہے ہیں: رپورٹ
کرکٹ کے معیار میں زوال آیا ہے: باسط علی
امراؤجان ادا کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا، ہر فن مولا شخصیت
میڈونا اور رچی میں طلاق
گیس کے نرخوں میں  اضافے کی منظوری
2011ءتک روز گار کے 25لاکھ نئے مواقع: اوباما کا منصوبہ
ایران میں اسرائیل کے جاسوس کو پھانسی کی سزا
سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں طاقتور زلزلہ
زمبابوے پر مگابے راج ختم ہونا چاہیے : بُش
چین کی جانب سے امریکی رپورٹ کی مذمّت
جرمنی میں حزب اللہ کے ٹیلی ویژن پر پابندی
پاکستان کے سرحدی علاقے بدستور چیلنج ہیں: نیٹو اجلاس
کوئٹہ میں شیعہ عالم ہلاک
آزاد منڈیاں اقتصادی ترقی کے عظیم محرکات ہیں: بُش
لیبیا میں 36 سال بعد پہلے امریکی سفیر کی تعیناتی
جلا وطن تبتّی چین کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں
عرا قی پارلیمنٹ  میں امریکی سیکیورٹی سمجھوتے پر رائے شماری
نیند کا مقصد کیا ہے؟
افغان مارکیٹ میں بم کا دھماکا
صومالی بحری قزاقوں نے یونان کے جہاز کو چھوڑدیا
امریکی شہریوں کو پاکستان کا سفر نہ کرنے کی تلقین
ق مکمل طور پر متحد ہے: چودھری شجاعت
اسلحے کو جدید بناؤ: چلٹن
شمالی وزیرستان میزائل حملہ، راشد رؤف ہلاک
”پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا“
اگلی دو دہائیوں میں امریکی رسوخ کم ہو جائے گا: انٹیلی جنس رپورٹ
کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنا دانش مندی نہیں ہو گی: بھارت
اونی ہاتھی کا ڈی این اے پڑھ لیا گیا
’تارے زمین پر‘ کی کہانی معموں کی کتاب سے چرائی گئی ہے؟