سپر مین کے کردار سے تو ہم سب ہی واقف ہیں۔ یہ کردار دنیا کے سامنے آج سے تقریباً70 سال پہلے آیاتھا۔ لیکن وہ آج بھی ہمارے لیے اتنا ہی جوان اور طاقت ور ہے جتنا پہلی بار تھا۔ مگر وہ گھر جہاں سپر مین پیدا ہوا یا یوں کہیے کہ جہاں اس کردار کو تخلیق کیا گیا ، اس کی حالت وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کافی خراب ہوچکی ہے۔
اب امریکہ میں ایک ناول نگار کی کوشش ہے کہ سپر مین کا اس گھر کو بھی آنے والی نسلوں کے لیے اسی طرح محفوظ کردیا جائے جس طرح کتابوں اور فلموں نے سپر مین کو ہمیشہ کے لیے ہماری زندگیوں کا حصہ بنا دیا ہے۔
سپر مین کے کردار نے امریکہ کی کئی نسلوں پر اپنے گہرے اثرات مرتب کیے۔ پہلے وہ کارٹون کتابوں کی شکل میں ظاہر ہوا اور اس کی تحلیق میں جوزف شوسٹر اور جیری سیگل کا حصہ تھا۔ ان کی عمر صرف 17 برس تھی جب انہوں نے اس کی کہانی لکھی تھی۔ ایک امریکی ناول نگار بریڈ ملٹزر کو اس کہانی سے دلچسپی ہے جو سپر مین کے پس منظر میں ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے جیری سیگل سے یہ پوچھا کہ انہیں اس کردار کی تخلیق کا خیال کیسے آیا تو انہوں نے یہ کبھی نہیں بتایا کہ ان کا والد جرم کی ایک واردت کا نشانہ بن کر ہلاک ہوگیا تھا۔
1933 میں اپنے والد کی ہلاکت کے ایک سال بعد سیگل اور شوسٹر نے اپنی مزاحیہ کتاب کا یہ کردار تخلیق کیا۔
بریڈ کہتے ہیں کہ جس جرم کو سپرمین نے روکنے کی کوشش کی وہ ڈکیٹی تھی۔ جس میں سیگل کا والد مارا گیا تھا۔ اور اگر آپ نشانہ بننے والے کی تصویر دیکھیں تو وہ ہینری سیگل ہے۔
یہ واقعہ سپرمین کی کامک بک کی فروخت سے پانچ سال پہلے کا ہے۔ یہ کتاب 1938 میں فروخت کے لیے پیش کی گئی تھی۔
میلٹزر کا تازہ ناول ،دی بک آف لائیز، خاص طورپر سیگل کے والد کی ہلاکت سے متاثر ہوکر لکھا گیا ہے۔ اس بارے میں جستجو انہیں کلیولینڈ لے گئی جہاں سپر مین کا کردار تخلیق ہوا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ میں وہاں گیا اور میں نے وہ جگہ دیکھی جو سپرمین کی جنم بھومی تھی۔ اگر مجھے اس گھر کے بارے میں لکھنا پڑے تو وہ یہ ہے کہ وہ خستہ حال گھر ہے ، بلکہ ایک کھنڈر ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
اس گھر کو محفوظ کرنے کے لیے میلٹزر نے ایک ویب سائٹ شروع کی ہے۔ انہوں نےتصویروں اور دوسری چیزوں کی آن لائن نیلامی کے ذریعے ایک لاکھ ڈالر اکٹھے کیے ہیں تاکہ اس گھر کی مرمت اور تزین وآرائش کی جاسکے جو سپرمین کا گھر ہے۔