Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں اسلام اور مغرب  کے موضوع پر مذاکرہ


October 9, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

Islam

معروف سکالر جان ملر کا کہنا ہے کہ القاعدہ جیسے عناصر کو ساری دنیا میں برائی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جبکہ بہت سے مسلمان بھی القاعدہ کے وجود سے اختلاف رکھتے ہیں۔  یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں گذشتہ دنوں جان ہاپکنز یونیورسٹی میں اسلام اور مغرب کے حوالے سے ایک مباحثے کے انعقاد میں کیا۔  

مغربی دنیا میں اسلام کے حوالے سے جاننے کا رجحان گذشتہ کچھ عرصے میں خاصا بڑھاہے۔  اس کی ایک وجہ نائن الیون کا واقعہ ہے جس کے بعد مغربی دنیا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں  زیادہ جاننے کی جستجو رکھتی ہے۔  اسی حوالے سے جان ہاپکنز یونیورسٹی میں اسلام اور مغرب کے حوالے سے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں یونیورسٹی کی جانب سے چار سکالرز کو مدعو کیا گیا۔  

معروف سکالر جون ملر نے اپنے مقالے میں اس بات پر زور دیا کہ القاعدہ جیسے عناصر کو ساری دنیا میں برائی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور خود بہت سے مسلمان بھی القاعدہ کے وجود سے اختلاف رکھتے ہیں۔    

ان کا کہنا تھا کہ پوری اسلامی دنیا میں القاعدہ کی سپورٹ ختم ہوتے ہوتے تقریباصفر ہو چکی ہے اس میں امریکہ میں بسنے والے مسلمان بھی شامل ہیں جو القاعدہ کے وجود کو ناپسند کرتے ہیں۔  اب صرف القاعدہ جیسے چند عناصر ہیں جو خطرناک ہیں اور جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

معروف جاپانی سکالر فرانسس فوکویاما نے بھی اسلام کے حوالے سے اپنے مقالے میں اسلام اور مغربی دنیا کا بغور تقابل کیا۔  انہوں نے مسلمانوں اور مغرب کے درمیان کشیدگی کوکم کرنے کے لیے ڈائیلاگ کی اہمیت پر زور دیا۔  

فرانسس فوکویاما نے کہا کہ میرے خیال میں ہمیں اسلام اور مغرب کے درمیان  ڈائیلاگ کی اہمیت اور فروغ دینے کی ضرورت ہے۔  عراق جنگ کی وجہ سے مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے مگر ان کے ساتھ اپنے خیالات و جذبات اور کمیونیکیشن کو اچھا بنا کر چیزوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ایساکرکے ہی ہم دنیا میں امن کے فروغ کے ضمن میں کوئی ٹھوس کام کرسکیں گے۔

 مباحثے میں طالب علموں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔  انہوں نے یونیورسٹی کی کاوش کو سراہا اور اسلام کے حوالے سے اپنی معلومات کے بڑھنے کو ایک حوصلہ افزاء عمل قرار دیا۔  

ربیعہ صابری کا کہنا تھاکہ میرے نزدیک یہ بہت ہی عمدہ، دلچسپ اور کار آمد مباحثہ تھا جس میں ہمیں اسلام اور مغرب کے حوالے سے مختلف زاویوں سے سوچنے کو مواد ملا۔  ایسے مباحثے اوربھی ہونے چاہیئں۔  

ٹریولر فلپیج  کا کہنا تھاکہ مجھے اس مباحثے میں شرکت کرکے بہت مزہ آیا۔  اس میں اسلام اور مغربی دنیا کے حوالے سے کھل کر بات کی گئی اور حالات  کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم پوری دیانتداری سے اس صورت ِ حال کا جائزہ لیں۔  اور یہاں پر موجود سکالرز نے یہی کیا۔  

ایمی مارکل  نے اس بارے میں اظہار خیا ل کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ ایک بہت مفیدگفتگو تھی کیونکہ امریکہ میں بہت سے افراد اسلام کے حوالے سےانتہا پسندی کا غلط تصور رکھتے ہیں۔  میرے خیال میں ایسے موضوعات پر گفتگو کرکے ہی آپ اپنے مفروضات کو درست کر سکتے ہیں۔  

مباحثے میں شریک طالبعلموں کی ایک بڑی تعداد اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ امریکہ میں نوجوان نسل نہ صرف اسلام ، اسلامی دنیا اور مسلمانوں کے حوالے سے جاننے کی خواہش رکھتے ہیں بلکہ وہ مغربی دنیا اور اسلامی دنیا کے مابین اچھے روابط کے بھی خواہاں ہیں۔

 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
سابق صدر مشرف لندن کے نجی دورے پر روانہ

  مزید خبریں
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ بھارت
لاہور میں عالمی پرفارمنگ آرٹس میلے کے قریب بم دھماکے
القاعدہ عالمی مالیاتی بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں
اوباما سے مشرق وسطیٰ کی توقعات
ایلوس پریسلی مرنے کے 30 سال بعد بھی رائلٹی میں پہلے نمبر پر
آسٹریلیا  میں  امام  خواتین کے حقوق  کونظر انداز کر رہے ہیں: رپورٹ
کرکٹ کے معیار میں زوال آیا ہے: باسط علی
امراؤجان ادا کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا، ہر فن مولا شخصیت
میڈونا اور رچی میں طلاق
گیس کے نرخوں میں  اضافے کی منظوری
2011ءتک روز گار کے 25لاکھ نئے مواقع: اوباما کا منصوبہ
ایران میں اسرائیل کے جاسوس کو پھانسی کی سزا
سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں طاقتور زلزلہ
زمبابوے پر مگابے راج ختم ہونا چاہیے : بُش
چین کی جانب سے امریکی رپورٹ کی مذمّت
جرمنی میں حزب اللہ کے ٹیلی ویژن پر پابندی
پاکستان کے سرحدی علاقے بدستور چیلنج ہیں: نیٹو اجلاس
کوئٹہ میں شیعہ عالم ہلاک
آزاد منڈیاں اقتصادی ترقی کے عظیم محرکات ہیں: بُش
لیبیا میں 36 سال بعد پہلے امریکی سفیر کی تعیناتی
جلا وطن تبتّی چین کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں
عرا قی پارلیمنٹ  میں امریکی سیکیورٹی سمجھوتے پر رائے شماری
نیند کا مقصد کیا ہے؟
افغان مارکیٹ میں بم کا دھماکا
صومالی بحری قزاقوں نے یونان کے جہاز کو چھوڑدیا
امریکی شہریوں کو پاکستان کا سفر نہ کرنے کی تلقین
ق مکمل طور پر متحد ہے: چودھری شجاعت
اسلحے کو جدید بناؤ: چلٹن
شمالی وزیرستان میزائل حملہ، راشد رؤف ہلاک
”پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا“
اگلی دو دہائیوں میں امریکی رسوخ کم ہو جائے گا: انٹیلی جنس رپورٹ
کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنا دانش مندی نہیں ہو گی: بھارت
اونی ہاتھی کا ڈی این اے پڑھ لیا گیا
’تارے زمین پر‘ کی کہانی معموں کی کتاب سے چرائی گئی ہے؟