معروف سکالر جان ملر کا کہنا ہے کہ القاعدہ جیسے عناصر کو ساری دنیا میں برائی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جبکہ بہت سے مسلمان بھی القاعدہ کے وجود سے اختلاف رکھتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں گذشتہ دنوں جان ہاپکنز یونیورسٹی میں اسلام اور مغرب کے حوالے سے ایک مباحثے کے انعقاد میں کیا۔
مغربی دنیا میں اسلام کے حوالے سے جاننے کا رجحان گذشتہ کچھ عرصے میں خاصا بڑھاہے۔ اس کی ایک وجہ نائن الیون کا واقعہ ہے جس کے بعد مغربی دنیا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں زیادہ جاننے کی جستجو رکھتی ہے۔ اسی حوالے سے جان ہاپکنز یونیورسٹی میں اسلام اور مغرب کے حوالے سے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں یونیورسٹی کی جانب سے چار سکالرز کو مدعو کیا گیا۔
معروف سکالر جون ملر نے اپنے مقالے میں اس بات پر زور دیا کہ القاعدہ جیسے عناصر کو ساری دنیا میں برائی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور خود بہت سے مسلمان بھی القاعدہ کے وجود سے اختلاف رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری اسلامی دنیا میں القاعدہ کی سپورٹ ختم ہوتے ہوتے تقریباصفر ہو چکی ہے اس میں امریکہ میں بسنے والے مسلمان بھی شامل ہیں جو القاعدہ کے وجود کو ناپسند کرتے ہیں۔ اب صرف القاعدہ جیسے چند عناصر ہیں جو خطرناک ہیں اور جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔
معروف جاپانی سکالر فرانسس فوکویاما نے بھی اسلام کے حوالے سے اپنے مقالے میں اسلام اور مغربی دنیا کا بغور تقابل کیا۔ انہوں نے مسلمانوں اور مغرب کے درمیان کشیدگی کوکم کرنے کے لیے ڈائیلاگ کی اہمیت پر زور دیا۔
فرانسس فوکویاما نے کہا کہ میرے خیال میں ہمیں اسلام اور مغرب کے درمیان ڈائیلاگ کی اہمیت اور فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ عراق جنگ کی وجہ سے مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے مگر ان کے ساتھ اپنے خیالات و جذبات اور کمیونیکیشن کو اچھا بنا کر چیزوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ایساکرکے ہی ہم دنیا میں امن کے فروغ کے ضمن میں کوئی ٹھوس کام کرسکیں گے۔
مباحثے میں طالب علموں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ انہوں نے یونیورسٹی کی کاوش کو سراہا اور اسلام کے حوالے سے اپنی معلومات کے بڑھنے کو ایک حوصلہ افزاء عمل قرار دیا۔
ربیعہ صابری کا کہنا تھاکہ میرے نزدیک یہ بہت ہی عمدہ، دلچسپ اور کار آمد مباحثہ تھا جس میں ہمیں اسلام اور مغرب کے حوالے سے مختلف زاویوں سے سوچنے کو مواد ملا۔ ایسے مباحثے اوربھی ہونے چاہیئں۔
ٹریولر فلپیج کا کہنا تھاکہ مجھے اس مباحثے میں شرکت کرکے بہت مزہ آیا۔ اس میں اسلام اور مغربی دنیا کے حوالے سے کھل کر بات کی گئی اور حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم پوری دیانتداری سے اس صورت ِ حال کا جائزہ لیں۔ اور یہاں پر موجود سکالرز نے یہی کیا۔
ایمی مارکل نے اس بارے میں اظہار خیا ل کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ ایک بہت مفیدگفتگو تھی کیونکہ امریکہ میں بہت سے افراد اسلام کے حوالے سےانتہا پسندی کا غلط تصور رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں ایسے موضوعات پر گفتگو کرکے ہی آپ اپنے مفروضات کو درست کر سکتے ہیں۔
مباحثے میں شریک طالبعلموں کی ایک بڑی تعداد اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ امریکہ میں نوجوان نسل نہ صرف اسلام ، اسلامی دنیا اور مسلمانوں کے حوالے سے جاننے کی خواہش رکھتے ہیں بلکہ وہ مغربی دنیا اور اسلامی دنیا کے مابین اچھے روابط کے بھی خواہاں ہیں۔