ٹیکوما میوزیم آف گلاس کا شمار امریکہ کے ان چند عجائب گھروں میں ہوتا ہے جو شیشے کے فن پاروں کے لیے مخصوص ہیں۔ اس عجائب گھر میں آنے والے سیاح جہاں معروف فن کاروں کے شاہ پاروں کا لطف اٹھاتے ہیں وہاں ماہر کاریگروں کو شیشے کو آرٹ میں ڈھالتے ہوئے بھی دیکھتے ہیں۔
عجائب گھر کی کیوریٹر ملیسا پوسٹ کہتی ہیں کہ ٹیکوما اور سیاٹل کے قریبی علاقوں میں گلاس کے فن سے وابستہ ایک بڑی کمیونٹی آباد ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ سیاٹل اور اس کے گرد و نواح میں تقریباً ایک ہزار ایسی دکانیں ہیں جہاں شیشے سے بنے ہوئے آرٹ کے نمونے ملتے ہیں اور یہ علاقہ اس فن سے وابستہ دنیا بھر کے آرٹسٹوں کے لیے بڑی کشش رکھتا ہے۔ یہاں خاص طور پر وہ آرٹسٹ آتے ہیں جو شیشے کو ایک آرٹ کے طورپر استعمال کرنے کی نئی دنیائیں تخلیق کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
گلاس آرٹ کے ایک فن کار مارٹن بلینک کہتے ہیں کہ میں پانچ سے سات تک شیشے کے جزیرے بنارہاہوں جو دس فٹ کے ہوں گے۔ یہ جزیرے پانی کے قدرتی مزاج کی عکاسی کریں گے۔ ہر جزیرے کی ایک اپنی خصوصیت ہوگی۔ ہر جزیرے دوسرے سے مختلف ہوگا۔
عجائب گھر کا تکون کی شکل کا ایک حصہ ایمفی تھیٹر 27 میٹر لمباہے۔ میوزیم کا ایک اور اہم حصہ شیشے کا بنا ہوا چی چولی برج ہے جو 152 میٹر لمبا ہے جو عجائب گھر کو ٹیکوما کے اندورن شہر سے ملاتا ہے۔ یہ پل سیاٹل سے تعلق رکھنے والے عجائب گھر کے ایک بانی ڈیل چی ہولی کے نام سے منسوب ہے۔
ٹیکوما میوزیم آف گلاس کا شہر کی صنعت کے ماضی سے گہرا تعلق ہے اور شہر کے راہنماؤں کو توقع ہے کہ اس صنعت کا مستقبل روشن ہوگا۔