پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کے کاروبار میں اضافہ: رواں سال 6000سے زائد لوگ ایرانی سرحد پر پکڑے گئے
نصیر کاکڑ کوئٹہ October 11, 2008
بلوچستان میں سیکیورٹی افواج اور دوسرے اداروں نے گذشتہ دس ماہ کے دوران چھ ہزار سے زیادہ ایسے نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے جو غیر قانونی طور پر باہرجانا چاہ رہے تھے۔
اُن کے بقول، پکڑے جانے والوں میں افغانی، بھارتی اور بنگلہ دیشی بھی شامل ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئے اے کے ڈائریکٹر، اکبر بلوچ نے وائس آف امریکہ کوبتایا کہ گذشتہ برسوں کی نسبت اِس سال باہر جانے کے خواہش مندوں میں اضافہ ہوا ہے۔جِس کی وجہ، بقول اُن کے، پاکستان میں غربت اور بے روزگاری ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے اِس سال انسانی ایجنٹوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔ مگر اُن کے ہاتھوں لُوٹے گئے افراد کے عدم تعاون کے باعث اکثر ایجنٹوں کو عدالتوں نے رہا کر دیا۔
’بڑی مشکل ہمیں یہ پیش آ رہی ہے کہ یہ جو غیر قانونی طور پر گئے تھے اور ’ڈِپورٹ‘ ہو کر آتے ہیں۔ جب یہ ایجنٹ گرفتار ہوتے ہیں، اُن کے خلاف بیان دینے سے گریز کیا جاتا ہے،یا اُن سے عدالت کے باہر کوئی فیصلہ کرلیا جاتا ہے، جِس بنا پر عدالت میں اُن کو سزائیں نہیں ہوتیں۔‘
اکبر بلوچ کے مطابق یورپ اور دوسرے ممالک کے لیے انسانی اسمگلر بلوچستان کا راستہ اختیار کرتے ہیں جِس کی ایران کے ساتھ 900کلومیٹر طویل اور دشوار گزار سرحد ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان سے ہر سال ہزاروں افراد اچھے مستقبل اور زیادہ رقم حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں جِن میں زیادہ تر یا تو ایران یا ترکی میں پکڑے جاتے ہیں یا پھر مبینہ طور پر یونان کے سمندر میں پھینک دیے جاتے ہیں۔
حکام کے بقول، اُن میں سے صرف آٹھ فی صد لوگ بیرونِ ملک نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔