خودکُش حملے حرام ہیں: تمام مکاتبِ فکر کے علما کی نمائندہ تنظیم کا فتویٰ
افضل رحمن لاہور October 14, 2008
منگل کے روزلاہورمیں معروف مذہبی درس گاہ جامعہ نعیمیہ میں متحدہ علما کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں اتفاقِ رائے سے اعلان کیا گیا کہ اسلام میں خودکُش حملے حرام ہیں۔
متحدہ علما کونسل کے میزبان مفتی سرفراز نعیمی نے ایک اخباری کانفرنس میں فتویٰ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ’یہ اجتماعی فتویٰ ہے کہ پاکستان میں خودکُش حملے نہ صرف حرام ہیں بلکہ ناجائز بھی ہیں۔‘
متحدہ علما کونسل میں تمام اہم مسالک کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ کالعدم لشکرِ طیبہ کے بانی اورجماعت الدعویٰ کے امیر حافظ محمد سعید اور کالعدم تنظیم سپاہِ صحابہ کے رہنما مجیب الرحمٰن انقلابی نے بھی شرکت کی۔
مفتی نعیمی نے کہا:’کسی مسلمان کو روا نہیں کہ وہ خودکُش حملہ کرکے اپنی جان ضائع کرے؛ اور وہ افراد جو اِس میں ملوث نہیں، جِن کا کوئی قصور نہیں، اُن کی جان کو ضائع کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔‘
متحدہ علما کونسل کے 21نکاتی مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان اور امریکہ کی حکومتوں پر شدید تنقید کی گئی ہے۔
آئندہ جمعے کے خطبوں میں خطیبوں کو قبائلی علاقوں میں کارروائی کی مذمت کرنے کا کہا گیا ہے اور یہ عندیہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ متحدہ علما کونسل صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے علما پر مشتمل ایک وفد باجوڑ، سوات اور دیگر اُن علاقوں میں بھیجے گی جہاں کارروائی ہو رہی ہے۔