بے نشان عورتوں کے دیس میں: سعودی عرب کے بارے میں کتاب
October 14, 2008
سعودی عرب کا اسلام باقی دنیا کے اسلام سے مختلف ہے: ڈاکٹر قانطہ
حال ہی میں ایک نئی کتاب شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے ’بے نشان عورتوں کے دیس میں‘ (In the Land of ( Invisible Women ۔ اِس کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر قانطہ احمد پاکستان میں پیدا ہوئیں اور برطانیہ میں پلی بڑھیں۔ انھوں نے سعودی عرب میں دو برس تک ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کیا اور اِس کتاب میں انھوں نے وہاں کے قدامت پسند معاشرے کے بارے میں اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔ تفصیل وائس آف امریکہ کی جولی ٹیبوآ نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے:
جب ڈاکٹر قانطہ احمد کو سعودی عرب میں ڈاکٹر کے عہدے پر کام کی پیش کش ہوئی تو انھوں نے اسے بخوشی قبول کر لیا۔ انھوں نے ارضِ مقدس میں کام کرنے کی سعادت کو اپنی خوش قسمتی سمجھا لیکن وہ کہتی ہیں کہ انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ سعودی عرب میں زندگی کا جو انداز ہے، اور اسلام پر جس طرح عمل کیا جاتا ہے، وہ ان کے عقائد اور طرزِ زندگی سے اتنا مختلف ہو گا۔
ڈاکٹر احمد نے سعودی عرب میں اپنی زندگی کا آغاز مکہ الکرمہ میں حج سے کیا۔ ڈاکٹر احمد نے بتایا کہ طوافِ کعبہ حج کا بنیادی رکن ہے۔ کعبہ شریف کو اسلام کا مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے ۔ڈاکٹر احمد کہتی ہیں:
’کعبے کا طواف کرتے ہوئے آپ کو احساس ہوتا ہے کہ اتنی بڑی کائنات میں انسان کتنا بے حقیقت اور خالقِ کائنات کتنا عظیم ہے۔ لیکن میرے لیے سب سے زیادہ متاثرکن چیز اسلام کی رنگا رنگی ، اس کا تنوع اور ہمہ گیریت ہے۔ ہر سال دنیا بھر کے ملکوں سے تعلق رکھنے والے مختلف رنگ و نسل کے لوگ یہاں جمع ہوتے ہیں جب کہ خود سعودی معاشرے میں تنوع اور رنگا رنگی کا خیر مقدم نہیں کیا جاتا۔‘
ڈاکٹر قانطہ سعودی بادشاہت کے قدامت پسند اسلامی مسلک وہابیت کا ذکر کرتی ہیں جو مملکت کا سرکاری مذہب ہے۔ وہ وہابی مسلک اور القاعدہ کے اسامہ بِن لادن جیسے عسکریت پسندوں کے درمیان تعلق کی بات کرتی ہیں تا ہم بہت سے ماہرین کی نظر میں یہ خیال متنازعہ ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ اسلام کی مسخ شدہ شکل ہے۔
واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں ڈاکٹر قانطہ نے اپنی کتاب کے چند اقتباسات پڑھے۔ حاضرین کی تعداد مختصر تھی لیکن ان کا تعلق بہت سے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ جس وہابی قانون کے تحت رہ رہی تھیں، وہ اُس اعتدال پسند اسلام سے بہت مختلف تھا جس پر وہ عمل کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں یہ کتاب لکھنے کا خیال آیا۔اپنی کتاب میں وہ سعودی عرب کے قدامت پسند اسلامی معاشرے میں عورتوں کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں:
’کوئی عورت اس وقت تک کاروبار نہیں کر سکتی جب تک اس کا کوئی مرد اسپانسر نہ ہو۔ عورت مرد کی اجازت کے بغیر سفر نہیں کر سکتی۔ سعودی عرب میں 40 فیصد کاروبار عورتوں کی ملکیت ہیں۔ ملک کی دولت کے بہت بڑے حصے پر ان کا کنٹرول ہے لیکن وہ یہ سب مرد کی نگہبانی کے بغیر نہیں کر سکتیں۔‘
لیکن جارج ٹاوٴن یونیورسٹی میں امریکن مسلم سٹڈیز پروگرام کے ڈائرکٹر زاہد بخاری کہتے ہیں کہ سعودی عورتوں میں آزادی کے فقدان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے الفاظ ہیں:
’بنیادی طور پر یہ کلچرل مسئلہ ہے۔ میرے خیال میں اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر اس کا تعلق اسلام سے ہوتا، تو پھر تمام ستاون مسلمان ملکوں میں، اور دنیا کے تمام مسلمانوں میں یہ مسئلہ موجود ہوتا۔ لیکن د نیامیں کہیں اور ایسا نہیں ہوتا۔ یہ صرف سعودی عرب کا مسئلہ ہے۔‘
اگرچہ وہابیت کو سعودی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے، لیکن بہت سے سعودی باشندے بھی اس کے سخت گیر اور کٹر طرزِ فکر سے متفق نہیں ہیں۔ ڈاکٹر قانطہ نے کہا کہ انہیں بہت سے ایسے سعودی مرد اور عورت ملے جو تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ انتہائی قدامت پسند ماحول میں اعتدال اور آرا کے اختلاف پر مبنی ماحول قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ڈاکٹر صاحبہ جو آج کل امریکہ میں مقیم ہیں، کہتی ہیں کہ دنیا بھر کے اعتدال پسند مسلمانوں کو انتہا پسند عناصر کی پُر تشدد کارروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہیئے جو وہ اسلام کے نام پر کر رہے ہیں۔انھوں نے اِس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان کی کتاب سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان بہتر مفاہمت پیدا ہو گی۔