آدھی رات کا سورج ۔۔۔ نویں قسط: معبد ۔۔ کلیسا ۔۔ مسجد ۔۔ کلیسا
زیف سید October 14, 2008
مسجدِ قرطبہ عبدالرحمٰن اول کی طرف سے گم گشتہ اموی روایت کی بازیافت کی کوشش تھی
قریش کے جلاوطن عقاب نے بھی مسجدِ قرطبہ کے صحن میں یہیں کہیں کھڑے ہو کر اپنی اس تخلیق کو فخر سے دیکھا ہو گا۔
عبدالرحمٰن اول نے مسجد کی تعمیر کا کام اپنی زندگی کے آخری برسوں میں شروع کیا تھا۔ گویا وہ اپنی ساری زندگی کی جدوجہد کا نچوڑ اس مسجد کی شکل میں دنیا کو دکھانا چاہتا تھا۔ مشہور مستشرق اور اسلامی فنون کے ماہر ٹائٹس برک ہارٹ کا خیال ہے کہ مسجد کے نقشے میں عبدالرحمٰن کا ہاتھ بھی تھا۔ جس طرح وہ پردیسی شہزادہ اپنے محل میں کھجور کا درخت لگا کر اس سے وطن بدری کا دکھ بانٹتا تھا، ویسے ہی اس نے مسجد کی تعمیر میں شام کی ہمیشہ کے لیے گم گشتہ یادوں اورچھنی ہوئی اموی روایت کی بازیافت کی کوشش کی ہے۔
قرطبہ قدیم شہر ہے۔ مسجد کے مقام پر رومیوں کا معبد تھا، جب وزی گوتھ قرطبہ کے حکمران بن گئے تو انھوں نے معبد ڈھا کر اس کی جگہ کلیسا تعمیر کیا۔ عبدالرحمٰن نے کلیسا کے پادریوں سے 80 ہزار درہم میں کلیسا خرید لیا اور اس پر مسجد کی بنیاد رکھی۔ مسجد کا قبلہ درست نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ معماروں نے غلطی سے قبلہ اسی طرف رکھا جس طرف دمشق کی اموی مسجد کا قبلہ تھا، حالاں کہ یہاں قبلہ جنوب مشرق کی طرف ہونا چاہیئے تھا۔
عبدالرحمٰن اس مسجد کی شکل میں اپنی نشانی، اپنا دستخط روئے زمین پر چھوڑنا چاہتا تھا۔ اس نے یقیناً اس کے نقشے پر کافی غوروخوض کیا ہو گا۔ اس نے دمشق میں اپنے دادا ہشام کے بھائی خلیفہ الولید کی تعمیر عظیم مسجد بھی دیکھی تھی، اور یروشلم میں واقع قبہ الصخرہ (ڈوم آف دی راک) بھی، جو اسلامی تعمیر کے اولین نمونوں میں سے ایک ہے۔ عبدالرحمٰن اور اس کے مہندسوں نے ان دونوں مساجد سے استفادہ بھی کیا ہے اور ان کے آرٹ کو کئی قدم آگے بھی بڑھایا ہے۔
مسجدِ قرطبہ کی دہری محرابیں دمشق کی مسجد کی یاد دلاتی ہیں، تاہم زیریں محرابوں کی ساخت اور بنت قرطبی معماروں کی تخلیق ہے، جو دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔ مسجد کی تعمیراتی جدت یہ ہے کہ اس میں چھت اونچی کرنے کے لیے دہری محرابیں استعمال کی گئی ہیں کیوں کہ واحد محراب بھاری چھت کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھی۔ اوپری محراب نچلی کی نسبت زیادہ بڑی ہے اور ان دونوں کا بوجھ ایک ہزار پتلے اور نازک اندام ستونوں کی قطاروں پر ہے۔
اگرچہ مسجد کی تعمیر میں رومی کھنڈرات سے نکالے گئے ستون اور محرابیں استعمال کی گئیں، اور مسجد کی مرکزی محراب بنانے کے لیے قسطنطنیہ کے عیسائی بادشاہ نے کاریگر اور پچی کاری کا سامان بھیجا، لیکن اس کے باوجود مسجد بنیادی طور پر اموی طرزِ تعمیر کا شاہ کار ہے۔
مسجد کی محرابوں میں سفید اور سرخ اینٹیں لگائی گئی ہیں جن کی دھاریاں مسجد کے مجموعی نقشے سے یوں ہم آہنگ ہو جاتی ہیں، جیسے سنگِ مرمر، سنگِ خارا اور سنگِ مردار سے بنے ہوئے سڈول ستون شانوں پر قوسِ قزح اٹھائے ہوئے ہیں۔
محراب کے اوپر تعمیر کردہ گنبد دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہے
دوسری جدت مقصورہ کے گنبد کی ساخت میں روا رکھی گئی ہے، جو مشرق و مغرب میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔ مہندسوں کو یہ مسئلہ درپیش تھا کہ گول گنبد کو کیسے مربع دیواروں کے ساتھ مربوط کیا جائے کہ گنبد کی گولائی بہ تدریج دیواروں میں ضم ہو جائے جو دیکھنے میں بھی خوش نما لگے اور انجینیئرنگ کے تقاضوں کے بھی مطابق ہو۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک ہشت پہلو شکل دریافت کی جو رفتہ رفتہ گنبد میں مدغم ہو جاتی ہے اور دیکھنے میں بھی بے حد حسین و جمیل لگتی ہے۔ آرٹ اور فنکشن کا اس سے عمدہ امتزاج ڈھونڈنا مشکل ہے۔
مسجد کی محراب بھی دنیا بھر کے طرزِ تعمیر کے اعلیٰ ترین فن پاروں میں سے ایک ہے، جس کے نمونے پر بعد میں آنے والی صدیوں میں دنیا بھر کی مسجدوں میں محرابیں تعمیر کی گئیں۔ یہ محراب ہشام نے تعمیر کروائی تھی۔ اندلس میں اموی خلافت کے آخری دور میں طاقت ور وزیر المنصور نے مسجد کی توسیع کی۔ اس نے شمال میں واقع عیسائیوں کے انتہائی مقدس مقام سینتیاگو کامپوستیلا کو فتح کر کے وہاں کے بڑے کلیسا سے گھنٹیاں اتروا لیں اور انھیں عیسائی زائرین کے کندھوں پر لدوا کر قرطبہ لے آیا اور انھیں شمع دان بنوا کر مسجدِ قرطبہ میں نصب کروا دیا۔ جب 1236ء میں عیسائی حکمران فرڈیننڈ ثالث نے قرطبہ فتح کیا تو اس نے مسجد سے گھنٹیاں اتروا کر اس بار مسلمانوں کے کندھوں پر سوار کروا کر واپس سینتیاگو بھجوا دیں۔
مسجد کے بیچوں بیچوں تعمیر کیا گیا کلیسا
فرڈیننڈ نے مسجد کو نہیں چھیڑا، تاہم 1523ء میں کارلوس پنجم نے مسجد کے بیچوں بیچ کلیسا بنانے کا حکم صادر کر دیا۔ اس مقصد کے لیے 63 ستون مسمار کر دیے گئے۔ مشہور ہے کہ جب کارلوس نے مکمل شدہ کلیسا دیکھا تو غم و غصے سے چلا اٹھا اور کہنے لگا کہ جو تم نے بنایا ہے وہ کہیں بھی بنایا جا سکتا تھا، لیکن تم نے جو توڑا ہے وہ دنیا میں اس کا کوئی مثل نہیں تھا۔
ہمیں اس روایت پر یقین کرنے میں ذرا مشکل پیش آ رہی ہے، کیوں کہ اسی کارلوس نے بعد میں الحمرا کے ایک حصے کو منہدم کروا کر وہاں اپنا گراں ڈیل محل تعمیر کروایا، جو الحمرا کے نرم و نازک، ریشمیں، مخملیں محلات کے بیچ میں ٹاٹ کا پیوند لگتا ہے۔
مسجد میں چلتے چلتے ہم ایک دیوار کے قریب پہنچے جہاں ایسی ٹائلیں نصب کی گئی ہیں جن پر معماروں نے اپنے اپنے نام کچے پلاسٹر پر لکھے ہیں۔ یہاں ہر طرح کے اسلامی نام نظر آتے ہیں، قاسم، احسان، مسعود۔ میں خاصی دیر تک اس دیوار کے آگے کھڑا ان ناموں کو تکتا اور ان معماروں کے بارے میں سوچتا رہا۔
آخر ہمارا راہبر ہمارے گروپ کو ہنکا کر مرکزی کلیسا کی طرف لے گیا۔ میں یقین سے کہہ نہیں سکتا کہ یہ میرا تعصب ہے یا کچھ اور، لیکن مجھے مسجد کے پراسرار، گہرے حسن کے اندر یہ شوخ و شنگ اور زرق برق کلیسا ایک آنکھ نہیں بھایا۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی خاموش، پرسکون ہال میں شرارتاً تیز موسیقی چھیڑ دی جائے۔ لیکن خیر، ایک لحاظ سے کلیسا کا احسان مند بھی ہونا ناگزیر ہے۔ اگر مسجد کے بیچ میں یہ کلیسا نہ ہوتا تو مسجد بھی قائم نہ رہ پاتی۔ قرطبہ میں ہزار سے زیادہ مسجدیں تھیں، ان میں سے صرف یہی باقی بچی ہے۔
معماروں نے اپنے نام ان ٹائلوں پر لکھے تھے
ہم جب کلیسا میں پہنچے تو وہاں عبادت کے آنے والوں کا ہجوم اکٹھا ہو رہا تھا۔ اور لوگ لکڑی کی بینچوں پر بیٹھے وعظ شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ اس موقعے پر راہبر ہمیں خاموش رہنے کی تلقین کرتا ہوا مسجد کی بیرونی دیوار کی طرف لے گیا۔ وہاں اس نے اسلامی معاشرے میں مسجد کی اہمیت اور مرکزیت پر اپنا وعظ شروع کر دیا۔ اس نے سامعین کے علم میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدا میں اسلام کا قبلہ یروشلم کی طرف تھا لیکن بعد میں اسے مکہ کی طرف موڑ دیا گیا۔
اس موقعے پر لبنانی رافعہ بول پڑی کہ ہاں، اس لیے کہ وہاں پیغمبرِ اسلام دفن ہیں۔ اسے ٹوکنا ضروری تھا، اس لیے میں نے کہا کہ ایک تو قبلے کا حضورِ پاک کے روضہ مبارک سے کوئی تعلق نہیں ہے، دوسری بات یہ کہ ان کا روضہ مکے میں نہیں بلکہ مدینے میں ہے۔ اس کا خاوند اس بات سے تھوڑا کھسیانا ہو گیا اور بیوی سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ تم نے مجھے شرمندہ کر دیا ہے۔
مسجدِ قرطبہ جہاں ایک طرف مسلمانوں کے عروج کا مرقع ہے، وہیں اس کے درودیوار ان کے زوال کی داستان بھی بیان کرتے ہیں۔ اس لیے مسجد سے واپسی پر بہت دیر تک دل کے افق پر خوشی اور پچھتاوے کا جھٹپٹا چھایا رہتا ہے۔