امریکہ کے صدارتی انتخابات تین ہفتے کے فاصلے پر ہیں اور ری یپبلکن اور ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی مہم پرامریکی معیشت کو درپیش سوالات ہی چھائے نظر آرہے ہیں ۔جان مکین اور براک اوبامااقتصادی بحران سے نکلنے کے منصوبے پیش کر رہے ہیں اور آج نیو یارک میں ہونے والے تیسرے اور آخری صدارتی مباحثے میں بھی یہی موضوع زیر بحث رہنے کی توقع ہے ۔
دونوں امیدوار اس بات پر متفق ہیں کہ مسئلہ کیا ہے مگر مسئلے کے حل کے لئے کیا کیا جائے ، اس پر دونوں کا اتفاق نہیں ہے ۔
مگر جان مکین اور براک اوباما دونوں جانتے ہیں کہ اگر وہ قرضوں اور مزید قرضوں پر ٹکی لڑکھڑاتی معیشت کو سہارا دینے کا کوئی دو ٹوک اور واضح راستہ لے کر نہ آئے تو امریکی ووٹروں کے لئے انتخابات تک کے باقی تین ہفتوں میں اپنی پسند کا امیدوار بدلنا کوئی مشکل نہیں ہوگا ۔مبصرین کے مطابق ایک چھوٹی سی غلطی رائے عامہ کے جائزے اورمقبولیت کے اعداو شمار،سب تبدیل کر سکتی ہے اور تین ہفتے کی مدت اس کام کے لئے خاصی لمبی ہے ۔اس لئے دونوں امیدواروں نے معیشت کو سہارا دینے کے لئے اپنے اپنے منصوبے کی ابتدائی تفصیلات پیش کرنا شروع کر دی ہیں ۔
میں ایسی اصلاھات متعارف کرواؤں گا تاکہ خاندان اپنے مکانوں سے اور ریٹائر افراد اپنے بچت سے محروم نہ ہوں ۔اور کالج سٹوڈنٹ اپنی ٹیوشن فیس دے سکیں ۔
جان مکین نے ورجینیا اورنارتھ کیرولائنا میں مختلف انتخابی جلسوں میں امریکہ کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے منصوبے اور ملک کو بحران سے نکالنے کے اپنے وعدے پھر دہرائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر امریکی شہری کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی ، ہم تیل کے کنوئیں کھودیں گے اور ہم اپنے آئندہ کے چار سال اس طرح نہیں گذاریں گے جیسے ہم نے اپنے موجودہ آٹھ سال گذار دیے ہیں۔ ہم تبدیلی لائیں گے۔
جان مکین کے معاشی منصوبے میں ایک لاکھ ڈالر سے کم سالانہ آمدنی والے خاندانوں کے لئے بے روزگاری الاونس پر ٹیکس کم کرنا اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے طویل مدت کے منافع پر ٹیکس آدھا کرنے کا وعدہ شامل ہے ۔
دوسری طرف براک اوباماکے پیش کردہ معاشی منصوبے میں نئی ملازمتیں پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ٹیکسوں میں رعایت اور بینکوں کو قرضہ ادا نہ کرسکنے والےمکان مالکان کے گھر قرق کرنےکے عمل کو عارضی طور پرروکنے اور نوے دن کی مہلت دینے کے وعدےکئے ۔ اوباما کی انتخابی مہم کے مطابق اس منصوبہ پر آئندہ دو سالوں میں 60ارب ڈالر خرچ ہونگے
سیاسی مبصرین کے مطابق جان مکین اوربراک اوباما کے معاشی منصوبوں میں کچھ چیزیں مشترک ہیں جیسے اوباما لوگوں کو کسی جرمانے کے بغیر ان کے ریٹائر منٹ فنڈ سے رقم نکالنے کی اجازت دینے کے حق میں ہیں جبکہ مکین 50ہزار ڈالر تک کے ریٹائرمنٹ فنڈ پر ٹیکسوں میں کمی کی پیشکش کر رہے ہیں ۔
ماہر اقتصادیات رابرٹ شیلر کا کہنا ہے کہ اس وقت جو صورتحال ہے اس میں سمجھداری اسی میں ہے کہ لوگوں کو ان کے ریٹائرمنٹ فنڈ سے رقم نکالنے دی جائے
تین مختلف اداروں کے مرتب کردہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق براک اوباما کو جان مکین پر چار پوائٹس کی جبکہ واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی کے سروے کے مطابق دس پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آج رات کے صدارتی مباحثے کے بعد پوائنٹس کی یہ گیم کیا رخ اختیار کرتی ہے ۔