امریکی وزیرِ خزانہ ہنری پالسن نے بدھ کے روزکہا کہ انہیں یقین ہے کہ مالیاتی نظام کے لیے حکومت کا امدادی منصوبہ کارگرہوگا، لیکن اس میں وقت لگے گا۔
انہوں نے یہ بات اس کے ایک روز بعد اے بی سی اور این بی سی پردیئے گئے انٹرویوز میں کہی جب صدر بش نے کچھ امریکی بینکوں کی جزوی ملکیت خریدنے اور مزید قرضوں اور کھاتوں کی ضمانت دینے کے لیے حکومت کے 250 ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی منصوبہ یورپی ملکوں کی جانب سے قرضوں کے تعطل کی شکار مارکیٹ کی بحالی کے لیےجاری کوششوں جیسا ہے، جس سے کاروبار اور معیشت کو بری طرح دھچکا لگا ہے۔
پالسن نے کہا کہ حکومت کی مداخلت سے نجی بینکوں کے لیے دست یاب رقم میں اضافہ ہوگا اور قرضوں کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔بدھ کے روز صدر بش نے کہا کہ یہ اقدامات عارضی ہیں اور ان کا مقصد آزاد مارکیٹ کو تحفظ دینا ہے نہ کہ اس کی جگہ کوئی اور نظام لانا۔
ایک نئی رپورٹ سے ظاہر ہوا ہے کہ مالیاتی بحران سے پرچون کا کاروبار متاثر ہورہا ہے جو امریکی معیشت کا دو تہائی حصہ ہے۔ بدھ کے روز محکمہ تجارت نے کہا کہ پرچون کاروبار تین سال میں اپنی انتہائی نچلی سطح تک پہنچ چکا ہے۔