پاکستانی روپیہ بدھ کے روز مزید دباؤ میں نظر آیا اور انٹر بینک مارکیٹ میں ایک مرحلے پر روپیہ۔ڈالر شرحِ مبادلہ 80روپے 80 پیسے فی ڈالر تک پہنچ گئی۔
خانانی اینڈ کالیا کمپنی کے ایک تجزیہ نگار نبیل اقبال کہتے ہیں کہ سال 2008ء میں روپے پر مسلسل دباؤ رہا ہے۔’ سال 2008ء میں ہم نے دیکھا ہے کہ روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔ اِس کے پیچھے جو بنیادی عوامل ہیں اُن میں سرِ فہرست مارکیٹ کی مستقل طلب ہے، چاہے وہ کھلا مارکیٹ ہو۔ کیونکہ ہماری سپلائی سائیڈ کمزور ہےیعنی جو دستیابی ہے وہ کمزور ہے اور طلب زیادہ اِس لیے جو دباؤ ہے وہ ایکس چینج ریٹ کے اوپر ہمیں مستقل نظر آیا ہے۔‘
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ آج بھی اسٹیٹ بینک نے روپے پر دباؤ کم کرنے کے لیے مداخلت کی تھی مگر صورتِ حال پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ دباؤ کی وجہ درآمدی ادائگیوں کے لیے ڈالر کی طلب میں اضافہ بتایا جاتا ہے۔
دوسری جانب کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کے روز صرف 40 ہزار حصص کا کاروبار ہوا جو اب تک کی کم ترین سطح ہے، جب کہ انڈیکس بغیر کسی کمی بیشی کے کل کی سطح پر رہا۔
کراچی اسٹاک ایکس چینج کے منیجنگ ڈائریکٹر عدنان آفریدی کا کہنا ہے کہ 27اگست کو حصص کی قیمتیں منجمد کرنے کا فیصلہ واپس لیا جا رہا ہے۔