افغانستان عالمی معاشی بحران کی گرفت سے بڑی حد تک بے نیاز
October 15, 2008
ایسے میں جب کہ مالیاتی بحران نے دنیا بھر کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے، افغانستان کی نمو پذیر معیشت پر اس کوئی قابل ذکر اثر نہیں پڑا ہے۔ تاہم ملک کے بینکاروں کو تشویش ہے کہ عالمی معاشی بحران کے باعث ان کے لیے قرضوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنا پہلے سے بھی زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔
کابل میں جہاں کوئی اسٹاک ایکس چینج نہیں ہے اور نہ ہی صارفین کی کوئی منظم مارکیٹ موجود ہے، دنیا کے اس غریب ترین ملک کی معیشت کو جانچنے کا واحد طریقہ خشک دریائے کابل کے کناروں پر موجود بینک ہیں۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں ریہڑی والے ہانک لگا کر پھل، قالین، اسٹاکس اور تقریباً ہر وہ چیز بیچتے ہیں جس کی افغانیوں کی اکثریت کو روزمرہ زندگی میں ضرورت ہوتی ہے۔جب کہ ان کی صداؤں کا مقابلہ وہاں موجود گداگر وں کی اونچی فریادوں سے ہورہا ہوتا ہے جن کا مقصد بھی راہگیروں کو اپنے جانب متوجہ کرنا ہوتاہے۔
ایران میں ایک عرصہ گزارنے کے بعد واپس آنے والے ایک بے روز گار نوجوان شفیق اللہ دھول میں بیٹھے ہوئے دکانداروں کے درمیان سے گذرتے ہوئے کپڑے کی ایک دکان میں داخل ہوتا ہے۔ قرضوں کا عالمی بحران، بینکوں میں سرمائے کی کمی اور دنیا بھر میں اسٹاک کی گرتی ہوئی قیمتوں کا اسے رتی بھر اندازہ نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس ملک کی معیشت کو جو چیز سب سے زیادہ متاثر کررہی ہے وہ شورش، شدید بے روزگاری اور سرکاری عہدے داروں کی بدعنوانی ہے، نہ کہ وہ سب کچھ جو وال سٹریٹ میں ہورہاہے۔
دریا کے کنارے سے تقریباً ایک سو میٹر نیچے سرائے شہزادہ منی ایک چینج مارکیٹ میں ایک ڈالر کے مقابلے میں افغان کرنسی مستقل 50 افغانی پر مستحکم ہے۔
پرانے کرنسی ڈیلر حاجی عبدالولی احمد زئی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اب تک عالمی مالیاتی بحران سے افغانستان کی معیشت پر کوئی برا اثر نہیں پڑا۔ لیکن وہ اس قسم کی پیش گوئیاں سن رہے ہیں کہ جلد ہی افغانستان کی معیشت پر اس کا اثر پڑے گا۔
احمد زئی کہتے ہیں کہ کرنسی ڈیلر کے طورپر انہوں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ پاکستانی روپے کی قیمت امریکی ڈالر کے مقابلے میں بڑی تیزی سے 30 فی صد کم ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان علاقے میں رہنے والے بہت سے افغانیوں کے لیے یا ان کے لیے جو وہاں کاروبار کرتے ہیں زندگی دشوار تر ہورہی ہے۔
طالبان کی اقتدار سے علاحدگی کے بعد سے افغانستان میں ترقی کی شرح دوہندسوں میں ہے۔ گذشتہ پانچ سال میں بڑے شہروں میں تعمیراتی منصوبوں کی وجہ سے معیشت کا حجم دگنا ہوگیا ہے۔ تاہم ابھی تک غیر قانونی افیون بدستور افغانستان کی سب سے بڑی برآمد ہے۔
سرکاری بینک پشتانے کے صدر حیات دیانی کہتے ہیں کہ تمام تر اندرونی بحران کے باوجود افغانی پر امید ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ انہیں امیدہے کہ موجودہ حالات کم از کم اگلے پانچ سے دس سال تک برقرار رہیں گے۔ اگر چہ یہاں پر عدم تحفظ ہے اور دھماکے بھی ہورہے ہیں لیکن اس کے باوجود اس وقت صرف افغان ہی ہیں جوسرمایہ کاری کررہے ہیں۔
افغانستان کے 16 کمرشل بینکوں کے مجموعی اثاثے صرف لگ بھگ ڈیڑھ ارب ڈالر ہیں۔ جو قرضوں کی موجودہ زبردست مانگ کو پورا کرنے کے لیے انتہائی ناکافی ہیں۔
پشتانے بینک کے دایانی کہتے ہیں کہ افغان بینکوں میں رقم جتنی بھی ہے، وہ امریکی بینکاروں جیسی غلطیاں نہیں کریں گے جنہوں نے ایسے قرضے دیے جو واپس نہیں مل سکتے تھے۔
افغانیوں کی بڑی اکثریت نے کبھی بینک نہیں دیکھا۔ یہ لوگ دیہاتوں میں رہتے ہیں اور غربت کا شکارہیں۔ یہ افراد قرض لینے کی نسبت زیادہ تر کاروبارمیں سامان کا لین دین کرتے ہیں۔
ملک کی مجموعی قومی پیداوارکا دو تہائی غیر ملکی امداد سے حاصل ہوتا ہے لیکن کرنسی ڈیلر احمد زئی کہتے ہیں کہ ان اربوں ڈالروں کی امداد میں سے بہت ہی کم حصہ کابل کے دھول سے اٹے خشک دریا ئے کابل پر واقع مرکزی بینک کے صارفین تک پہنچتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ سب سے اہم زرعی شعبے میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوتی۔ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے بڑے کارخانے نہیں بن رہے۔ انہیں شکوہ ہے کہ تمام ڈالر چند لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح ایک بھوکا آدمی ٹیلی وژن روٹی کا اشتہار دیکھ رہا ہو، اسے خوراک کی شدید طلب ہے لیکن ٹیلی وژن کی سکرین کے ذریعےخوراک تک پہنچنا اس کے لیے ناممکن ہے۔
عالمی معیشت کا یہ بھی ایک منظر نامہ ہے۔ اس کارخ خواہ کسی بھی طرف ہو، ایک اوسط افغان کے لیے تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔