Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

میر، غالب، اور ایک منٹ کے چاول


October 15, 2008

Mir and Ghalib

شاعری کا تعلق دل کی دنیا سے ہے اورکہا جاتا ہے کہ دل کا راستا پیٹ سے ہو کر گزرتا ہے۔ اسی منطق کو آگے بڑھایا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ شاعری کا پیٹ سے گہرا تعلق ہے، اس بات سے قطع نظر کہ اردو کے کئی عظیم شعرا اکثر خالی پیٹ ہی رہا کرتے تھے۔

اردو کے عظیم شعرا کا ذکر آیا ہے تو میر اور غالب سے زیادہ عظیم کون ہو گا۔ لیکن کیا کبھی میر اورغالب نے سوچا ہو گا کہ ایک دن انھیں چاول بنانے کے ایک چولہے سے اتنا فائدہ پہنچے گا جو ان کے کسی مربی نواب سے زندگی بھر نہیں ملا اور  اسی چولہے کی بدولت ان کے فن پر قابلِ قدر تحقیقی اور تنقیدی کارنامے سرانجام دیے جائیں گے؟

کیلنڈر کے صفحات تیزی سے پلٹ کر ہم پہنچتے ہیں 1971ء میں۔ نیویارک سے شائع ہونے والے مشہور رسالے ’نیویارکر‘ میں وید مہتا نامی ایک شخص خط لکھا، جس میں انھوں نے نیویارکر ہی میں شائع ہونے والے ایک اداریے کا جواب دیا تھا۔

اوراس اداریے کا موضوع کیا تھا؟ اس کے لیے ہمیں مزید سات سال پیچھے جانا پڑے گا کیوں حیرت انگیز طور پر مہتا صاحب کو اس کا جواب دیتے دیتے سات برس لگ گئے تھے۔

سات برس قبل 1964ء میں نیویارکر نے ایک دل چسپ وصیت کا ذکر کیا تھا۔ ایک افغان نژاد شخص عطااللہ اوزئی درانی نے پانچ لاکھ ڈالر کی خطیر رقم اس مقصد کے لیے مختص کی تھی کہ میر اورغالب کی شاعری کے انگریزی میں تراجم کیے جائیں۔ مدیر نے اس وصیت پر رائے زنی کرتے ہوئے لکھا تھا:

’جناب درانی نے انیسویں صدی کے فارسی شعرا (کذا) میرتقی میر اورغالب کے انگریزی ترجموں اور ان کی سوانح لکھنے کے لیے یہ رقم چھوڑی ہے ۔۔۔ ہو سکتا ہے یہ خراب شعرا رہے ہوں، لیکن ’منٹ رائس‘ کے موجد جناب درانی اگر ان کے اتنے مداح ہیں تو ہمیں اس بات پر اطمینان ہے۔‘

اس اداریے میں ’خراب شعرا‘ کا جو فقرہ استعمال ہوا،اسی نے وید مہتا صاحب کو سات برسوں بعد ہی سہی، اس کا جواب دینے پر مجبور کر دیا۔ لیکن اس سےپہلے کہ ہم وید مہتا کے جوابی خط کا جائزہ لیں، پہلے اس بات کا تعین ہو جائے کہ منٹ رائس کیا چیز ہے؟ اس کے لیے ہمیں 23 سال مزید پیچھے جانا پڑے گا۔

Minute Rice
منٹ رائس آج بھی امریکہ میں عام دستیاب ہے
عطااللہ درانی صاحب ویسے تو جامعہ علی گڑھ کے فارغ التحصیل تھے، لیکن 30 کی دہائی میں امریکہ جا بسے تھے۔ درانی صاحب کا میلان کھانا پکانے کے نت نئے چولہے ایجاد کرنے کی طرف تھا۔ چناں چہ 1941ء کے ایک دن وہ جنرل فوڈ کمپنی کے دفتر میں فاتحانہ شان سے داخل ہوئے اور اپنی سالہاسال کی تحقیق کا نچوڑ کمپنی کے مینیجر کے سامنے میز پر رکھ دیا۔ یہ ایک چھوٹا سا برقی چولہا تھا جس کی خوبی یہ تھی کہ صرف ایک منٹ میں چاول تیار کر دیتا تھا۔

جنرل فوڈ کو یہ چولہا اس قدر پسند آیا کہ انھوں نے فوراً اسے خرید لیا اور درانی صاحب راتوں رات کروڑ پتی ہو گئے۔ اور اسی رقم میں سے کچھ انھوں نے میر و غالب کے لیے چھوڑی تھی۔

وید مہتا صاحب نے نیویارکر کے اداریے کے جواب میں لکھا کہ میر اور غالب ہرگز خراب شعرا نہیں تھے، بلکہ اردو جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ دونوں انگریزی کے عظیم شعرا چاسر اور بائرن سے بھی دو ہاتھ آگے تھے۔ بلکہ ان کی عظمت کی دلیل یہ ہے کہ ان کا ترجمہ کسی اور زبان میں ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ ایسی کوئی بھی کوشش ان کی توہین کے مترادف ہو گی۔

 کیوں نہ درکار ہو مجھے پوشش؟
 جسم رکھتا ہوں ہے اگرچہ نزار
 کچھ خریدا نہیں ہے اب کے سال
 کچھ بنایا نہیں ہے اب کی بار
 آگ تاپے کہاں تلک انسان
 دھوپ کھائے کہاں تلک جاں دار
 آپ کا بندہ اور پھروں ننگا؟
 آپ کا نوکر اور کھاؤں ادھار؟

 غالب کے قصیدے سے اقتباس


عطااللہ درانی کا انتقال 1964ء میں امریکی ریاست کولاراڈو میں ہوا تھا۔ انھوں نے ایک امریکی خاتون سے شادی کی تھی اوران کی ایک بیٹی بھی تھی، لیکن  بعد میں ان کی بیوی سے علاحدگی ہو گئی تھی۔  ان کی اس عجیب و غریب وصیت نے وکلا کو بھی اچھے خاصے مخمصے میں ڈال دیا تھا کیوں کہ ان بے چاروں نے کبھی میر یا غالب کا نام تک نہیں سنا تھا، اور وہ سمجھتے تھے کہ یہ دونوں فارسی کے شعرا ہیں۔ جب امریکہ میں قائم بھارتی قونصل خانے کے لائبریرین سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے خاصی سوچ بچار کے بعد نتیجہ نکالا یہ معاملہ پاکستان سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کی تحقیق کا نچوڑ یہ تھا کہ غالب کی شاعری عاشقانہ اور فلسفیانہ ہے جب کہ میر کی شاعری شیعہ مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔

جب نیویارک کی کولمبیا یونی ورسٹی کے مطالعہٴ ایران کے  پروفیسر  احسان یارشاطر سے اس معاملے پر روشنی ڈالنے کے لیے درخواست کی گئی تو انھوں نے بھی بھارتی لائبریرین کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ واقعی یہ دونوں شاعر پاکستانی علاقے کے باشندے تھے۔ انھوں نے یہ اضافہ کرنا بھی ضروری سمجھا کہ ان کی شاعری کوئی خاص نہیں ہے۔

اس کہانی کا آخری سوال یہ ہے کہ آخر 1964ء کے زمانے کے اس نصف ملین ڈالر کی بھاری رقم کا کیا مصرف ہوا؟

Three Mughal Poets
وصیت کے نتیجے میں لکھی جانے والی کتاب، تین مغل شاعر
درانی صاحب نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ یہ رقم ہارورڈ یونی ورسٹی یا اسی جیسے کسی دوسرے تحقیقی ادارے کو دی جائے۔ چناں ہارورڈ یونی ورسٹی نے اس ترکے سے استفادہ کرتے ہوئے پہلے تو مشہور جرمن مستشرق این میری شمل کو انڈومسلم سٹڈیز کا پروفیسر مقرر کر دیا، تو دوسری طرف رالف رسل اور خورشید السلام کے ذمے میر اور غالب پر تحقیق کا کام لگا دیا۔ اسی تحقیق کے ثمر میں ان دونوں حضرات کی کتاب ’تین مغل شاعر‘ اور’غالب، زندگی اور خطوطِ‘ تخلیق کی گئیں، یہ دونوں کتابیں انگریزی زبان میں اردو ادب کے بارے میں عمدہ ترین کتابیں متصور کی جاتی ہیں۔

این میری شمل نے بھی میر کے بارے میں ایک کتاب لکھی تھی، ممکن ہے کہ یہ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہو۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ درانی صاحب نے اردو کی خدمت کے لیے اپنی تجوری کا منھ کھولا ہو۔ اس سے قبل انھوں نے علی گڑھ یونی ورسٹی کو ایک لاکھ روپے کا عطیہ دیا تھا تاکہ سید حسین یادگاری پروفیسرشپ قائم کی جا سکے۔ تاہم اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور درانی صاحب نے بعد میں اپنی رقم واپس لے لی۔

غالب اکثر روزی کی تنگی کی شکایت کیا کرتے تھے۔ ہمیں یقین ہے کہ انھیں اگر اسی قسم کا ایک رائس کوکر مل جاتا تو وہ ادھار کھانے کی بجائے اسی کی کمائی اڑایا کرتے اور بہادر شاہ کی بجائے عطااللہ درانی کی مدح لکھتے۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ بھارت

  مزید خبریں
لاہور میں عالمی پرفارمنگ آرٹس میلے کے قریب بم دھماکے
القاعدہ عالمی مالیاتی بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں
اوباما سے مشرق وسطیٰ کی توقعات
ایلوس پریسلی مرنے کے 30 سال بعد بھی رائلٹی میں پہلے نمبر پر
آسٹریلیا  میں  امام  خواتین کے حقوق  کونظر انداز کر رہے ہیں: رپورٹ
کرکٹ کے معیار میں زوال آیا ہے: باسط علی
امراؤجان ادا کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا، ہر فن مولا شخصیت
میڈونا اور رچی میں طلاق
گیس کے نرخوں میں  اضافے کی منظوری
2011ءتک روز گار کے 25لاکھ نئے مواقع: اوباما کا منصوبہ
ایران میں اسرائیل کے جاسوس کو پھانسی کی سزا
سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں طاقتور زلزلہ
زمبابوے پر مگابے راج ختم ہونا چاہیے : بُش
چین کی جانب سے امریکی رپورٹ کی مذمّت
جرمنی میں حزب اللہ کے ٹیلی ویژن پر پابندی
پاکستان کے سرحدی علاقے بدستور چیلنج ہیں: نیٹو اجلاس
کوئٹہ میں شیعہ عالم ہلاک
آزاد منڈیاں اقتصادی ترقی کے عظیم محرکات ہیں: بُش
لیبیا میں 36 سال بعد پہلے امریکی سفیر کی تعیناتی
جلا وطن تبتّی چین کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں
عرا قی پارلیمنٹ  میں امریکی سیکیورٹی سمجھوتے پر رائے شماری
نیند کا مقصد کیا ہے؟
افغان مارکیٹ میں بم کا دھماکا
صومالی بحری قزاقوں نے یونان کے جہاز کو چھوڑدیا
امریکی شہریوں کو پاکستان کا سفر نہ کرنے کی تلقین
ق مکمل طور پر متحد ہے: چودھری شجاعت
اسلحے کو جدید بناؤ: چلٹن
شمالی وزیرستان میزائل حملہ، راشد رؤف ہلاک
”پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا“
اگلی دو دہائیوں میں امریکی رسوخ کم ہو جائے گا: انٹیلی جنس رپورٹ
کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنا دانش مندی نہیں ہو گی: بھارت
اونی ہاتھی کا ڈی این اے پڑھ لیا گیا
’تارے زمین پر‘ کی کہانی معموں کی کتاب سے چرائی گئی ہے؟