پشتو فلم انڈسٹری کے شہرہٴ آفاق ہیرو بدر منیر پچھلے دِنوں 68سال کی عمر میں پاکستان کے شہر لاہور میں انتقال کر گئے۔ بدر منیر سوات میں پیدا ہوئے جِن کا تعلق میاں خیل قبیلے سے تھا۔یہ وہ علاقہ ہے جو گذشتہ کچھ برسوں سے شدت پسندی کی زَد میں ہے۔
بدر منیر کو پشتو فلموں کے بے تاج بادشاہ کے علاوہ پشتو فلم انڈسٹری کا دلیپ کمار بھی سمجھا جاتا تھا۔ اُنہوں نے پشتو فلموں کے علاوہ کئی اردو فلموں میں بھی کام کیا،جِس میں’دلہن ایک رات کی‘ اور ’زخمی‘ شامل ہیں۔
اُنہوں نے عملی زندگی کا آغاز کراچی میں رکشہ ڈرائیور کی حیثیت سے کیا تھا جب کہ فلمی زندگی کا آغاز اُس وقت کے نامور ہیرو وحید مراد کے ساتھ لائٹ مین کے طورپرکیااور یوں اُنہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔
اُن کی پہلی پشتو فلم ’یوسف خان شہربانو‘ تھی جِس میں اُنہوں نے یوسف خان کا کردار ادا کیا تھا۔ اُن کی دیگر ہٹ فلموں میں اُربَل، شیطان، خکلی ناوی، دُخمنی اور لیوانے شامل ہیں۔
اُنہوں نے تقریباً 416 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اُن کے ساتھ ہیروئن کا کردار زیادہ تر مسرت شاہیں، یاسمین خان اور عشرت چودھری نے کیا۔ بدر منیر اور اُن کے پشتو فلمی فنکار،مثلاً نعمت سرحدی،آصف خان،عمر دراز خلیل، یاسمین خان اور طارق شاہ کا شمار پشتو فلمی صنعت کے بانیوں میں ہوتا ہے۔
بدر منیر کے 38سالہ فلمی کیریئر کا نمایاں پہلو پشتو فلموں کا فروغ تھا۔ 1970ء اور 1980ء کے عشروں میں شاید کم ہی ایسے پشتو فلم بین ہوں گے جِنہوں نے بدر منیر کی فلموں کو نہیں دیکھا ہوگا۔ بدر منیر پشتو فلموں میں بیشتر ایک جنگجو نوجوان کا کردار کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے۔
یہ اُن دِٕنوں کی بات ہے جب افغانستان پر سوویت یونین قابض تھا، کچھ ایسے اندیشے ظاہر کیے جاتے تھےکہ ہو سکتا ہے کہ روس پاکستان پر بھی دھاوا بول دے۔ پشاور کے قریب کسی حجرے میں مصروفِ گفتگو کچھ لوگوں نے جب اِس خدشے کا اظہار کیا تو وہاں موجود ایک سادہ لوح شخص نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں اِس لیے کہ جب تک ہمارے پاس بدر منیر جیسا جنگجو موجود ہے اور روسی ایسی جرات نہیں کر سکتے۔
یہ تو تھا جملہ ٴ معترضہ لیکن اِس گفتگو سے بدر منیر کی مقبولیت اور اُن سے لوگوں کی عقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔
آج بدر منیر ہم میں نہیں لیکن لاکھوں پرستاروں کے دل میں اُن کی خوش گوار یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔