گذشتہ ہفتے شدید مندی کا سامنا کرنے کے بعد بڑی امریکی ، ایشیائی اور یورپی منڈیوں میں منگل کے روز اچانک غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی ۔ اس تبدیلی کا باعث امریکہ سمیت دوسری اہم اقتصادی طاقتوں کی جانب سے دنیا کو مالیاتی بحران کی لپیٹ میں آنے سے بچانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ہیں۔
ایک ایسا ہی اقدام امریکہ کی جانب سے پرائیویٹ بینکنگ سسٹم میں 250 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔ یہ فنڈ امریکی کانگریس کی جانب سے پچھلے ہفتے منظور کیے جانے والے 700 ارب ڈالر کے امدادی منصوبے کا حصہ ہے۔
صدر بش کا کہنا ہے کہ اس سرمائے کی مدد سے صحت مند بینک اپنے صارفین اور کاروباروں کو قرضوں کی فراہمی جاری رکھ سکیں گے اور مشکلات کے شکار بینکوں کے لیےاس خلا کو پر کرنے میں مدد گار ہوں جو کہ مالیاتی خسارے کے دوران پیدا ہوا ۔ اس سرمائے سے بینک قرضوں کی فراہمی جاری رکھ کر روزگار کے مواقع پیدا کرسکیں گے اور معاشی ترقی میں اپنا رول ادا کرسکیں گے۔
700 ارب ڈالر کے اس منصوبے سمیت بش انتظامیہ کے حال ہی میں کیے جانے والے اقدامات کو اکثر معیشت دانوں کی جانب سے ریگولائز یشن اور بینکوں کو قومیانے سے تعبیر کیے جانے کے جواب میں صدر بش نے کہا کہ اس کا مقصد پرائیویٹ سیکٹر کو مدد دینا ہے نہ کہ اس پر قبضہ کرنا۔ امریکی حکومت اپنے اس منصوبے پر عمل درآمد کی سمت پیش رفت کررہی ہے۔
ایک اقتصادی ماہر نیل کاشکیری کا کہنا تھا کہ ہمارا کام ابھی ابتدائی مراحل میں ہے ۔ ایسے بڑے اور پیچیدہ پروگرام کو اپنے قدم مہینوں بلکہ سالوں تک لگ سکتے ہیں۔ لیکن ہم سب کو معلوم ہے کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔
کچھ ماہرین کا کہناہے کہ یہ اندازہ کرنا کہ ان کوششوں سے مسائل حل ہوسکیں گے یا نہیں، قبل از وقت ہے۔ نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹر اینڈریو سورکن کے مطابق کئی اہم سوالات جواب طلب ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 700 ارب ڈالر اصل میں کہاں لگیں گے؟ کیسے استعمال ہوں گے؟ کیا بینکوں کو مضبوط بنانے کے لیے یا مارٹگیج کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے ؟ اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔
یورپ میں کئی حکومتیں مالی بحران میں کمی لانے کے لیے پہلے ہی مل کر اقدامات کررہی ہیں۔برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتوں کے واقعات سے یہ بات بالکل واضح ہوچکی ہے کہ یہ عالمی مسائل ہیں جن کے حل کے لیے عالمی حل کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات کہ آیا مالیاتی اداروں میں فی الواقع واپس آرہاہے یا نہیں ، یہ واضح ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔