 |
| کائی عیدی |
افغانستان میں تعینات اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کائی عیدی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ سالوں کے مقابلے میں اس سال افغانستان میں طالبان کی جانب سے فوجیوں ، عام شہریوں اور امدادی کارروائیوں میں مصروف کارکنوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور طالبان کادائرہ اثر اب جنوب اورمشرقی صوبوں سے بڑھ کا دارلحکومت کابل تک پھیل گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے مطابق افغانستان میں تعینات اتحادی افواج میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ وہ نہ صرف عسکری اعتبار سے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ہار رہے ہیں بلکہ وہ عام افغان کی حمایت سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔اُنہوں نے یہ بیان اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں دیا۔
کائی عیدی نے کہا کہ اس سال جولائی اور اگست میں امن و امان کی صورت حال گزشتہ چھ سالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ خراب رہی ، لیکن اُنہوں نے افغانستان میں امن امان کی خراب صورت حال کے سے حوالے سے اتحادی افواج کی منفی سوچ پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ مثبت بات یہ ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ملک پاکستان سے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
یا درہے کہ افغانستان میں برطانوی کمانڈر بریگیڈئرکارلٹن سمتھ نے رواں ماہ کے آغاز میں اپنے ایک اخباری انٹرویو میں کہا تھا کہ ”افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی اور اس مسئلے کے فوجی حل ممکن نہیں“۔ اور اُس موقع پر کائی عیدی نے بھی برطانیہ کے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان مسئلے کا حل صرف بات چیت ہے اور اسی طریقے سے یہ جنگ جیتی جا سکتی ہے۔
جبکہ اس کے جواب میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کہہ چکے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ طالبان کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ طالبان سے بات چیت اور رابطے کے بارے میں امریکی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے اول تو افغان سیکورٹی فورسز کو مضبوط بنا نا ہے اور دوئم وہاں اُن لوگوں سے مفاہمت کرنی ہے جو افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ طالبان بار ہا کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اوردوسری غیر ملکی افواج جب تک افغانستان میں موجود ہیں افغان حکومت سے کسی قسم کی مفاہمت یا بات چیت نہیں کی جائے گی۔