گزشتہ ماہ کے اوآخر میں اغواء ہونے والے پولینڈ کے انجینئر نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اس کی جان کو خطر ہ ہے اور حکومت پاکستان اُس کی رہائی کے لیے طالبان کے مطالبات مان لے۔اس حوالے سے جب اسلام آباد میں پولینڈ کے سفارت خانے سے رابطہ کیا گیا تو سفارت خانے کے ترجمان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مغوی انجینئرپیٹر سپنزک کی رہائی کے لیے اغواء کاروں نے براہ راست اُن سے کوئی رابطہ کیانہیں کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینلزپرچلنے والی ویڈیو ٹیپ میں پیٹر حکومت پاکستان سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ اُس کی رہائی کے بدلے قبائلی علاقوں سے حراست میں لیے گئے طالبان کو رہا کرے، جو اُن کے مطابق خاصہ بڑا مطالبہ ہے۔تاہم اُنہوں نے واضح کیا کہ یہ مطالبہ حکومت پاکستان سے ہے نہ کہ پولینڈکے سفارتخانے سے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ویڈیو میں انجینئرکی صحت خاصی اچھی لگ رہی تھی اور وہ اُن کی جلد رہائی کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
یاد رہے کہ 28 ستمبرکو اسلام آباد سے تقریبا 100 کلو میڑ دور اٹک کے مقام پر تیل کی تلاش کرنے والی پولینڈ کی کمپنی سے منسلک پیٹر سپنزک کونامعلوم افراد نے اغواء، جبکہ اُن کے پاکستانی محافظ اور ڈرائیور سمیت تین افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔اس واقعے کے بعد پولینڈ کی تیل تلاش کرنے والی کمپنی جیوفزیقانے پاکستان میں اپنی سرگرمیاں ختم کرتے ہوئے اپنے 18 پولش ملازمین کو واپس اپنے ملک بھینجے کا فیصلہ کیا ۔
واضح رہے کہ پشاور سے اغواء ہونے والے افغانستان کے پاکستان کے لیے نامزدسفیرعبدالخالق فراحی اور صوبہ سرحد کے ہی ضلع دیر سے اغواء ہونے والے دوچینی انجینئروں کوبھی تاحال بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔