افغانستان کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے: نیو یارک ٹائمز
October 15, 2008
’نیویارک ٹائمز‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ سالہا سال اِس کو نظر انداز کرنے کے بعد اب صدر بُش اور اُن کے معاونین کو بالآخر اِس حقیقت کا احساس ہو رہا ہے کہ افغانستان کا حال چوپٹ ہے۔
اخبار کہتا ہے کہ امریکہ کی 16انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان خطرناک رفتار سے نیچے کی طرف جا رہا ہے۔
ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مسودے کے مطابق افغانستان میں مرکزی انتظامیہ کی ناکامی اور طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت کی وجہ تین مسائل ہیں: بدعنوانیوں کا دور دورہ، ناجائز منشیات کا پھلتا پھولتا کاروبار اور سرحد پار پاکستان سے جنگ جوؤں کی طرف سے ہوئے نپے تُلے حملے۔
اخبار کہتا ہے کہ اگر اِن تینوں مسائل سے نہ نمٹا گیا تو افغانستان کی جنگ میں شکست ہو سکتی ہے۔ چناچہ اخبار کہتا ہے کہ افغانستان میں مزید امریکی اور اتحادی فوجیں بھیجنی پڑیں گی۔
اخبار کہتا ہے کہ بش انتظامیہ کو طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے قبائلی لیڈروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی مخالفت ترک کردینی چاہیئے۔صدر کرزئی کو اِس سے پہنچنے والے نقصان کی فکر کرنے کا وقت کب کا گزر چکا ہے۔ طالبان کے ارکان کے ساتھ مصالحت کی بات چیت کرنے کا بھی جائزہ لینا چاہیئے بشرطیکہ وہ تشدد سے توبہ کرلیں۔
نیو یارک ٹائمز کا مشورہ ہے کہ امریکہ کو ترغیبات اور دباؤ کی مدد سے پاکستان کو اِس بات پر راضی کرنا چاہیئے کہ وہ طالبان اور القاعدہ کے محفوظ ٹھکانوں کو اپنے یہاں ختم کرے۔
پاکستان کی نئی سولین حکومت اور فوج کے نئے سربراہ کہہ چکے ہیں کہ اُنہیں جنگ جوؤں کی طرف سے لاحق خطرے کا ادراک ہے اور وہ اُن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔اُن کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیئے اور محتاط نگرانی میں فوجی اور اقتصادی امداد فراہم کی جانی چاہیئے۔
اخبار کہنا ہے کہ اگر صدر بش نے 2003ء میں عراق پر حملہ نہ کیا ہوتا اور اُس کے بدلے اِس ملک کے تمام وسائل اور توجہ کو افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کو شکست دینے پر موکوز کیا گیا ہوتا تو حالات مختلف ہوتے۔
چناچہ رجائیت پسند تجزیہ کاروں کا اب یہی خیال ہے کہ حالات اِس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ بہترین حکمتِ عملی کو بروئے کار لایا جائے تب بھی افغانستان کو مستحکم کرنے میں مزید پانچ تا دس سال تک لگ سکتے ہیں۔
اِسی لیے اخبار کہتا ہے کہ امریکہ کے نئے صدر کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ عراق سے جلد لیکن منظم طور پر فوجیں ہٹا کر افغانستان میں تیزی اور سنجیدگی کے ساتھ فوجیں اور امدادی سامان جمع کرے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اصل محاذہے۔