Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

افغانستان کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے: نیو یارک ٹائمز

October 15, 2008

Afghan police officer stands at  damaged police post after explosion in the outskirts of Kabul, 24 Sep 2008
’نیویارک ٹائمز‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ سالہا سال اِس کو نظر انداز کرنے کے بعد اب صدر بُش اور اُن کے معاونین کو بالآخر اِس حقیقت کا احساس ہو رہا ہے کہ افغانستان کا حال چوپٹ ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکہ کی 16انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان خطرناک رفتار سے نیچے کی طرف جا رہا ہے۔

ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مسودے کے مطابق افغانستان میں مرکزی انتظامیہ کی ناکامی اور طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت کی وجہ تین مسائل ہیں: بدعنوانیوں کا دور دورہ، ناجائز منشیات کا پھلتا پھولتا کاروبار اور سرحد پار پاکستان سے جنگ جوؤں کی طرف سے ہوئے نپے تُلے حملے۔

اخبار کہتا ہے کہ اگر اِن تینوں مسائل سے نہ نمٹا گیا تو افغانستان کی جنگ میں شکست ہو سکتی ہے۔ چناچہ اخبار کہتا ہے کہ افغانستان میں مزید امریکی اور اتحادی فوجیں بھیجنی پڑیں گی۔

اخبار کہتا ہے کہ بش انتظامیہ کو طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے قبائلی لیڈروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی مخالفت ترک کردینی چاہیئے۔صدر کرزئی کو اِس سے پہنچنے والے نقصان کی فکر کرنے کا وقت کب کا گزر چکا ہے۔ طالبان کے ارکان کے ساتھ مصالحت کی بات چیت کرنے کا بھی جائزہ لینا چاہیئے بشرطیکہ وہ تشدد سے توبہ کرلیں۔

نیو یارک ٹائمز کا مشورہ ہے کہ امریکہ کو ترغیبات اور دباؤ کی مدد سے پاکستان کو اِس بات پر راضی کرنا چاہیئے کہ وہ طالبان اور القاعدہ کے محفوظ ٹھکانوں کو اپنے یہاں ختم کرے۔

پاکستان کی نئی سولین حکومت اور فوج کے نئے سربراہ کہہ چکے ہیں کہ اُنہیں جنگ جوؤں کی طرف سے لاحق خطرے کا ادراک ہے اور وہ اُن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔اُن کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیئے اور محتاط نگرانی میں فوجی اور اقتصادی امداد فراہم کی جانی چاہیئے۔

اخبار کہنا ہے کہ اگر صدر بش نے 2003ء میں عراق پر حملہ نہ کیا ہوتا اور اُس کے بدلے اِس ملک کے تمام وسائل اور توجہ کو افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کو شکست دینے پر موکوز کیا گیا ہوتا تو حالات مختلف ہوتے۔

چناچہ رجائیت پسند تجزیہ کاروں کا اب یہی خیال ہے کہ حالات اِس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ بہترین حکمتِ عملی کو بروئے کار لایا جائے تب بھی افغانستان کو مستحکم کرنے میں مزید پانچ تا دس سال تک لگ سکتے ہیں۔

اِسی لیے اخبار کہتا ہے کہ امریکہ کے نئے صدر کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ عراق سے جلد لیکن منظم طور پر فوجیں ہٹا کر افغانستان میں تیزی اور سنجیدگی کے ساتھ فوجیں اور امدادی سامان جمع کرے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اصل محاذہے۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ بھارت

  مزید خبریں
لاہور میں عالمی پرفارمنگ آرٹس میلے کے قریب بم دھماکے
القاعدہ عالمی مالیاتی بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں
اوباما سے مشرق وسطیٰ کی توقعات
ایلوس پریسلی مرنے کے 30 سال بعد بھی رائلٹی میں پہلے نمبر پر
آسٹریلیا  میں  امام  خواتین کے حقوق  کونظر انداز کر رہے ہیں: رپورٹ
کرکٹ کے معیار میں زوال آیا ہے: باسط علی
امراؤجان ادا کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا، ہر فن مولا شخصیت
میڈونا اور رچی میں طلاق
گیس کے نرخوں میں  اضافے کی منظوری
2011ءتک روز گار کے 25لاکھ نئے مواقع: اوباما کا منصوبہ
ایران میں اسرائیل کے جاسوس کو پھانسی کی سزا
سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں طاقتور زلزلہ
زمبابوے پر مگابے راج ختم ہونا چاہیے : بُش
چین کی جانب سے امریکی رپورٹ کی مذمّت
جرمنی میں حزب اللہ کے ٹیلی ویژن پر پابندی
پاکستان کے سرحدی علاقے بدستور چیلنج ہیں: نیٹو اجلاس
کوئٹہ میں شیعہ عالم ہلاک
آزاد منڈیاں اقتصادی ترقی کے عظیم محرکات ہیں: بُش
لیبیا میں 36 سال بعد پہلے امریکی سفیر کی تعیناتی
جلا وطن تبتّی چین کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں
عرا قی پارلیمنٹ  میں امریکی سیکیورٹی سمجھوتے پر رائے شماری
نیند کا مقصد کیا ہے؟
افغان مارکیٹ میں بم کا دھماکا
صومالی بحری قزاقوں نے یونان کے جہاز کو چھوڑدیا
امریکی شہریوں کو پاکستان کا سفر نہ کرنے کی تلقین
ق مکمل طور پر متحد ہے: چودھری شجاعت
اسلحے کو جدید بناؤ: چلٹن
شمالی وزیرستان میزائل حملہ، راشد رؤف ہلاک
”پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا“
اگلی دو دہائیوں میں امریکی رسوخ کم ہو جائے گا: انٹیلی جنس رپورٹ
کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنا دانش مندی نہیں ہو گی: بھارت
اونی ہاتھی کا ڈی این اے پڑھ لیا گیا
’تارے زمین پر‘ کی کہانی معموں کی کتاب سے چرائی گئی ہے؟