کراچی کے مضافاتی علاقے ملیر میں واقع جیل میں قیدیوں اور پولیس کے درمیان تصادم میں دو قیدی ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں پولیس اہل کار بھی شامل ہیں۔
جیل کے اندر اور باہر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی میں شدت آگئی ہے۔ جیل کے اندر سے آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل اُٹھ رہے ہیں جب کہ فائرنگ اور آنسو گیس کے گولے پھینکنے کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔
ڈی آئی جی جیل خانہ جات ممتاز برنی کا کہنا ہے کہ ہنگامے پر قابو پانے کے لیے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری طلب کر لی گئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ہنگامہ قیدیوں کے گروپ کی طرف سے جیل توڑ نے کی کوشش پر شروع ہوا۔ بقول جیل حکام، جیل توڑ کر بھاگنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں قیدیوں کی گنجائش سے زیادہ تعداد میں موجودگی، قیدیوں سے بدسلوکی کے واقعات اور سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے صورتِ حال خاصے عرصے سے کشیدہ تھی اور قیدیوں میں بے چینی پائی جاتی تھی۔
پولیس کا کہنا ہےکہ ہنگامہ شام کے وقت شروع ہوا، جب قیدیوں نے بیرکوں کی چھتوں پر چڑھ کر کمبل اور کپڑوں میں آگ لگائی اور پتھراؤ شروع کر دیا،جیل کے اندر دفتر پر حملہ کیا، توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی، اور تالے توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی جِس کے بعد ان پر فائرنگ کی گئی۔
تازہ اطلاع کے مطابق جیل کے اندر ہنگامہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مشیر جیل خانہ جات گل محمد جاکھرانی نے دو قیدیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس کارروائی نہ کرتی تو قیدی جیل توڑ کر فرار ہو جاتے۔
یاد رہے کہ حالیہ چند ہفتوں کے دوران سندھ کی کئ جیلوں میں ہنگامے ہوئے ہیں، جِن میں کراچی، حیدرآباد اور سکھر جیلیں شامل ہیں۔
تمام جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے بہت زیادہ ہے، جب کہ بد سلوکی اور سہولتوں کے فقدان کی شکایات عام ہیں۔