امریکہ میں جاری صدارتی دوڑ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواروں نے نیویارک کی ہوفسٹرا یونیورسٹی میں اپنی صدارتی مہم کے آخری مہینے کا تیسرا بڑا راونڈ مکمل کر لیا ہے۔ کس امیدوار کی پرفارمنس کتنی اچھی رہی؟ اس پر تو آنے والے دنوں میں بحث جاری رہے گی ہی۔ لیکن امیدواروں کی مقبولیت کے اعداو دو شمار کتنی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور مبصرین کے خیال میں معیشت کو سدھارنے کے لئے کس امیدوار کا منصوبہ زیادہ پرکشش ثابت ہو سکتا ہے۔
تیسری اور آخری صدارتی ڈیبیٹ جان مکین کے لئے امریکی ووٹروں کے دل جیتنے کا آخری موقعہ تھی یا نہیں مگرامریکی ذرائع ابلاغ کے مرتب کردہ تازہ ترین پولز کے مطابق جان مکین اور براک اوباما کے درمیان پوائنٹس کا فاصلہ تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ نیو یارک ٹائمز اور سی بی ایس کے پولز کے مطابق اوباما کو مکین پر چودہ پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔
سیاسی تجزیہ کار میتھیو ڈاؤڈ کہتے ہیں کہ جان مکین اپنے کیرئیر کے دوران کئی مرتبہ جادوئی نوعیت کے کام کئے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس مرتبہ یہ کام پہلے سے مشکل ہے۔
لاس اینجلس ٹائمز کے ایک پول کے مطابق جو پندرہ سو افراد سے بات کے بعد مرتب کیا گیا ،50فیصد امریکی ووٹر اوباما کے جبکہ 41فیصد مکین کے حامی تھے۔ واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی کے پولز کے مطابق اصل میدان جنگ سمجھی جانے والی چار انتہائی اہم امریکی ریاستوں کولوراڈو ،مشی گن ،مینیسوٹا اور وسکونسن میں براک اوباما کی مقبولیت میں ڈرامائی اضافی دیکھا جا رہا ہے۔
گزشتہ روزجان مکین نے امریکی ریاست پینسلوانیا میں اپنے معاشی منصوبے کی تفصیٰلات کا اعلان کیا تھا جس میں بےروزگاری الاونس اور ریٹائرڈ افراد کی بچت پر ٹیکسوں میں کمی اور چھوٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔ جبکہ براک اوباما نے اپنے معاشی منصوبے میں نئی ملازمتیں پیدا کرنے والے اداروں کو ٹیکس میں چھوٹ دینے اور مالکان مکان کو کچھ رعایتیں دینے کی پیشکش کی تھی۔
ماہر معاشیات رابرٹ شیلر کہتے ہیں کہ اوباما کےمنصوبے میں ایک بڑے مسئلے کے حل پر توجہ دی گئی ہے۔ امریکہ میں ہر روز دس ہزار مکان قرق کئے جا رہے ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کی رائے میں دونوں امیدواروں کے منصوبوں سے کسی نہ کسی کو فائدہ ہی ہوگا۔ رابرٹ سن ولیمز کہتے ہیں کہ اگر آپ کی آمدنی ڈیڑھ لاکھ ڈالر سالانہ ہے تو آپ کو سینیٹر اوباما کے منصوبے سے فائدہ ہو گا اگر آپ کی سالانہ آمدنی ڈھائی لاکھ ڈالر ہے تو آپ سینیٹر مکین کے منصوبے سے فائدے میں رہیں گے۔
امریکی ووٹر روایتی طور پر صدارتی انتخابات میں اس پارٹی کو ووٹ دیتے رہے ہیں جس کے اقتدار سے باہر ہونے کے زمانے میں معاشی صورتحال خراب ہو اورمبصرین کے مطابق یہی خراب معاشی صورتحال جان مکین کو کامیابی سے دور لے جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کاخیال ہے کہ صدارتی انتخاب کے دن امریکی ووٹر آج کے سب سے اہم مسئلےیعنی اپنی موجودہ معاشی مشکلات کو سامنے رکھ کر ووٹ ڈالیں گےاوریہ نہیں سوچیں گے کہ ملک کی معیشت اگلے چار سالوں میں تو سنبھل ہی جائے گی۔
سٹیورات روتھن برگ کہتے ہیں کہ امریکی عوام ایسے ہی ہیں۔ وہ حال پر نظر رکھتے ہیں اور ان حالات کی روشنی میں فیصلہ کرتے ہیں جو ان کے سامنے ہوں۔
اور سامنے کے حالات یہ ہیں کہ امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے چیئر مین کہہ رہے ہیں کہ عالمی منڈیوں میں استحکام لانے کی کوشش کے باجود امریکی معیشت کو ابھی مشکلات کا ایک طویل دور دیکھنا ہوگا۔ خواہ اگلے امریکی صدر جان مکین ہوں یا براک اوباما۔