امریکہ کی وسط مغربی ریاست میزوری کو امریکی صدارتی انتخابات میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور ہر صدارتی امیدوار اس ریاست سے جیتنے کی سرتوڑ کوشش کرتاہے۔ میزوری کے بارے میں یہ دلچسپ روایت موجود ہے کہ وائٹ ہاؤس تک وہی امیدوار پہنچتا ہے جو اس ریاست سے کامیابی حاصل کرتا ہے۔
یہ روایت اس اعتبارسے درست ہے کہ گذشتہ ایک صدی میں ، ماسوائے ایک بار کے، اس ریاست سے جیتنے والا امیدوار ہی امریکہ کا صدر بنا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ میزوری کے ووٹر ایک طرح سے امریکی عوام کی مجموعی سوچ کو پرکھنے کا پیمانہ ہیں۔
سینٹ لوئیس پوسٹ سے وابستہ صحافی جو مینیز کہتے ہیں کہ یہ ریاست ایک طرح سے پورے امریکہ کے ایک اوسط امریکی کی سوچ کو ظاہر کرتی ہےنہ یہ کہ اس ساحلی پٹی پر رہنے والوں کی۔
دونوں صدارتی امیدواورں کو اس چیز کا احساس ہے اور دونوں ہی اس ریاست میں اپنی انتخابی مہم کے اشتہارات پر لاکھوں ڈالر خرچ کررہے ہیں۔
پیٹر کیسٹور سینٹ لوئیس کی واشنگٹن یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور انہوں نے دونوں نائب صدارتی امیدواروں الاسکا کی گورنر سیرا پیلین اور جوبائیڈن کے درمیان مباحثے کی میزبانی کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ براک اوباما کا نعرہ ،تبدیلی، بڑے پیمانے پر کالجوں اور میزوری کے شہری علاقوں مثلاً سینٹ لوئیس اور کینساس میں ووٹروں کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے۔
2004 کے انتخابات میں ری پبلیکن جارج بش نے اسقاط حمل اور ہم جنس شادیوں کی مخالفت اور ہتھیار رکھنے کے حق کی حمایت کے ذریعے ریاست کے دیہاتی ووٹ جیتے تھے۔ انہی ووٹوں کی بنا پر انہیں جان کیری پر سبقت حاصل ہوئی تھی۔ مگر ان انتخابات میں ، کیسٹور کا کہنا ہے کہ اس بار وائٹ ہاؤس کا راستہ ملک کی معاشی صورت حال سے ہو کر گذرے گا۔