مسلم دنیا اور امریکہ کے تعلقات آج کی عالمی سفارت کاری کا سب سے اہم موضوع ہیں ، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلم دنیا اور امریکہ کے درمیان اچھے اور دوستانہ تعلقات کے لئےعام افراد تک ایک دوسرے کے بارے میں درست معلومات پہنچانا بہت ضروری ہے۔ یہ بات چار مارہرین پر مشتمل ایک پینل نے امریکہ اور مسلمان ممالک کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہی۔
اس کے علاوہ پینل کے شرکا نے متفقہ طور پر اس رائے کا اظہار کیا کہ مسلمان ممالک کے حوالے سے امریکہ کی خارجہ پالیسی میں بہتری کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں نہ صرف امریکی حکومت کو مسلمان ممالک کے حکام کے ساتھ روابط پیدا کرنے چاہئیں، بلکہ مسلمان ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اقدام کرنے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے بدلے مسلمان ممالک کے حکام کو بھی تعلقات استوار کرنے کے لیے ٹھوس اقدام کرنے ہوں گے۔ یہ مشورہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں بھی پیش کیا ہے۔
سرچ فار کامن گراؤنڈ کے باب فیرش کہتے ہیں کہ رپورٹ میں ہم نے امریکہ کی طرف سے کیے جانے والے اقدام پر زور دیا ہے، لیکن تعلقات استوار کرنے کا کوئی بھی منصوبہ مسلمان ممالک کی شرکت کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے رپورٹ میں ہم نے مسلمان ممالک کے حکام کو دہشت گرد ی پر قابو پانے، جمہوری اداروں کو تشکیل دینے، اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پینل کے شرکا نے کہا کہ مسلمان ممالک کے ساتھ روابط قائم کرنے کے لیے امریکہ کو ڈپلومسی کے استعمال کا بہترین طریقہ تلاش کرنا ہو گا۔ خصوصی طور پر ایران اور امریکہ کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نومبر میں امریکہ کے صدارتی انتخاب میں جو امیدوار بھی صدر منتخب ہوا، اسے ایران، پاکستان ، افغانستان اور عراق کے ساتھ تعلقات پر توجہ ہر حال میں دینی ہو گی۔
اسی موضوع پر مزید روشنی ڈالتے ہوئےپینل کے شرکا نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو دوست اور حریف ممالک، دونوں کے ساتھ ہی مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس کے علاوہ پینل کے شرکا کا کہنا تھا کہ امریکہ کو مسلمان ممالک میں جمہوری انتخابات پر زور دینے کے بجائے جمہوریت کی بنیاد پکی کرنے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے نقطہ نظر سے ان ممالک کے سیاسی عمل کے پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔
ڈیوڈ فیئر مین کا کہناتھا کہ ان ممالک میں جمہوریت اور انتخابات کے عمل کے نتیجے فتح کس کو حاصل ہوتی ہے۔ خارجہ پالیسی کے نظریے سے یہ امریکہ کے لیے ایک بہت اہم سوال ہے۔
پینل کے شرکا نے یہ بھی کہا کہ کہ اس کے ساتھ ساتھ امریکی عوام کا مسلمانوں کی جانب رویہ بدلنے کی بھی بہت ضرورت ہے، کیونکہ امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانے کا ایک بہترین طریقہ یہی ہے کہ عوام امریکی حکام پر دباو ڈالیں۔
اس موقع پر باب فیرش نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ امریکی عوام کو مسلمانوں کی ثقافت کے بارے بہت کچھ جاننے کی ضرورت ہے۔ اور یہ معلومات کا یہ سلسلہ مسلمان کمیونٹی کے ساتھ بات چیت اور تبادلہ خیال کے ذریعے شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کے عوامی ادارے (پبلیک انسٹیٹیو شن ) بھی مسلم کمیونٹی کے ساتھ روابط بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پینل کے شرکا کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کی مدد سے امریکہ اور مسلمان ممالک کے تعلقات استوار کیے جا سکتے ہیں، اور شکوک و شبہات دور کرنے میں سب کا ہی فائدہ ہے۔