 |
| حالیہ دنوں میں سرحد پار میزائل حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے (فائل فوٹو) |
جنوبی وزیرستان کے علاقے سام میں عسکریت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانے پر بغیر پائلٹ کے ایک امریکی جاسوس طیارے سے داغے گئے مبینہ میزائل حملے میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ مقامی قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں طالبان اور عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔جنوبی وزیرستان تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہ مبینہ دہشت گرد اسی علاقے سے اپنے جنگجوؤں کی کارروائیوں کے احکامات جاری کرتا ہے۔
خیال رہے کہ یہ حملہ پاکستان ، افغانستان اور امریکہ کی زیر کمان اتحادی افواج کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے سہہ فریقی اجلاس کے ایک روز بعد کیا گیاہے اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت نے اس اجلاس میں سرحد پار میزائل حملوں کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔
دوسری طرف پارلیمان کا بند کمرے میں ہونے والا مشترکہ اجلاس بھی جاری ہے جس میں اب تک ہونے والی بحث میں حزب اختلاف کے اراکین کا حکومت سے باربار یہی مطالبہ سامنے آیا ہے کہ سرحد پار سے امریکی میزائل حملوں کے بارے میں پچھلی اور موجودہ حکومت نے اگر امریکہ سے کوئی معاہدہ کر رکھا ہےتو اسے ایوان کے سامنے پیش کیا جائے۔تاہم حکومتی عہدیدار بشمول وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بار بار یہ واضح کرچکے ہیں کہ پاکستانی سرزمین پر امریکی کارروائیوں کے حوالے سے کسی معاہدے کا وجود نہیں ہے۔