 |
| انڈونیشیا میں ماحولیاتی کانفرنس |
انڈونیشیا میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آب وہوا کی تبدیلی پر ہونے والی کانفرنس کے مندوبین غریب ملکوں کو اپنے جنگلات برقرار رکھنے کے لیے نجی کمپنیوں اور امیر ملکوں کوان کی مالی معاونت کرنےکے ایک منصوبے پر گفت و شنید کررہے ہیں۔
اس منصوبے کا نام’’ ترقی پذیر ملکوں میں جنگلات کی کٹائی روکنے کے ذریعے گیسوں کے اخراج میں کمی‘‘یا آرای ڈی ڈی ہے۔
ماحولیات سے متعلق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ خط سرطان پر واقع ممالک میں درخت کاٹنے اور لکڑی جلانے سے جتنی کاربن ڈائی اکسائڈ گیس خارج ہوتی ہے وہ دنیا میں تمام انسانی ذریعوں سے خارج ہونے والی گیس کا 20 فی صد ہے۔ کاربن ڈائی اکسائڈ وہ گیس ہے جسے عالمی حدت کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
آرای ڈی ڈی منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج محدود کرنے کے کیوتو معاہدے میں موجود خلا پر کرنے کے لیے اس منصوبے کی ضرورت ہے۔
ناقدین نے انتباہ کیا ہے کہ حکومتوں کے لیے یہ مشکل ہوگا کہ وہ اپنے جنگلات پر نظر رکھیں اور اس منصوبے پر عمل کرائیں۔
آب ہوا کی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے سربراہ کہہ چکے ہیں کہ ممکن ہے کہ اس کانفرنس میں آرای ڈی ڈی معاہدہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچے، مگر اس کی تفصیلات پر کام کرنے والا گروپ نمایاں پیش رفت کررہا ہے۔
دنیا کے190 ممالک کے مندوبین انڈونیشا کے تفریحی جزیرے بالی میں 1997 کے کیوٹو پروٹوکول کی، جو2012 میں ختم ہوجائے گا، جگہ لینے کے لیے ایک نئےمعاہدے کے لیے اجلاس کررہے ہیں ۔
3 دسمبر کو بالی میں شروع ہونے والی یہ کانفرنس14 دسمبرتک جاری رہے گی۔