 |
|
سابق نائب امریکی صدر اور ماحولیاتی کارکن ال گور |
امریکہ کے سابق نائب صدر ال گور نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے جب انسانیت کرہٴارض سے جنگ آزمائی سے باز آجائے۔
آج پیر کے دن اوسلو میں نوبیل امن انعام وصول کرنے کے بعد الگور نے کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے دو ملکوں چین اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ گلوبل وارمنگ کے خلاف جنگ میں بقول ان کے ”جرات مندانہ اقدام “ اٹھایئں۔
واضح رہے کہ امریکہ نے کیوتو معاہدے کی توثیق نہیں کی ہے جب کہ اس معاہدے کے تحت چین پر لازم نہیں کہ وہ گیسوں کے اخراج میں کمی کرے۔
ال گور نے اس موقعے پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ہفتے ماحول کے بارے میں جاری بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے بالی جا رہے ہیں، جہاں وہ بین الاقوامی برادری کے لیڈروں پر زور دیں گے کہ وہ 2010ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو منجمد کرنے کے سلسلے میں کم از کم ہر تین ماہ بعد اجلاس منعقد کیا کریں۔
ال گور نےاس سال امن کا یہ نوبیل انعام مشترکہ طور پر حاصل کیا ہے، ان کے ساتھ موسمی تبدیلیوں کے بارے میں بین الحکومتی پینل کو اس انعام کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ تقریب میں اس ادارے کی نمائندگی راجندر پچوری نے کی۔
پچوری نے اس موقعے پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور عالمی امن کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ موسموں کی تبدیلی سے دنیا کی بہت بڑی آبادی ترکِ مکانی پر مجبور ہوجائے گی اور اس کے سات ساتھ پانی اور دیگر وسائل کی تقسیم پر جنگیں اور فساد ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ موسمی تبدیلی کے سبب افریقہ کے تقریباً 25 کروڑ باشندے پانی کی شدید قلّت کا شکار ہوجائیں گے۔