 |
| اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون |
ماحول سے متعلق دنیا بھر کے وزراء انڈونیشا میں اقوام متحدہ کی زیر قیادت آب و ہوا پر ہونے والی کانفرنس میں 2012ءکے بعد ماحولیاتی تپش کا مقابلہ کرنے کے لیے راہنما اصول طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
بدھ کے روز بالی میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے افتتاح کے موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے وزرا پر زور دیا کہ وہ آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق ایک نئے معاہدے پر گفت و شنید کی 2009ءکی ڈیڈ لائن مقرر کریں۔
جناب بان نے کہا کہ آنے والی نسلیں معاہدے کے سلسلے میں ان پر انحصار کررہی ہیں اور یہ کہ اب عمل کا وقت آگیا ہے ۔
انہوں نے 120 سے زیادہ ملکوں کے وزرا کو بتایا کہ ماحولیاتی تپش کا خطرہ ان کی نسل کے لیے ایک اخلاقی چیلنج ہے۔
بدھ کے روز ہی آسٹریلیا کے وزیر اعظم کیون رود نے آسٹریلیا کی طرف سے 1997ءکے کیوٹو معاہدے کی توثیق کی دستاویزات جناب بان گی کے سپرد کیں ۔
وزیرِ اعظم رود نے گزشتہ ہفتے پروٹوکول پر دستخط کیے تھے جس کے بعد امریکہ وہ واحد بڑا ترقی یافتہ ملک رہ گیا ہےجس نے ابھی تک اسے قبول نہیں کیا ہے ۔
کیوٹو معاہدہ 2012ءمیں ختم ہو رہا ہے اور یہ دولت مند ملکوں سے اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 1990ء کی سطح کے مقابلے میں پانچ فیصد کمی کریں۔
انڈونیشیا کے صدر سوسیلی بمبانگ یودہو یونو نے بدھ کے روز وزراسے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ انسانی تہذیب کے سب سے بڑے پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔
بالی کانفرنس جمعےکے روز ختم ہو رہی ہے ۔ اس کانفرنس کا مقصد کیوٹو پروٹوکول کی جگہ لینے کے لیے باقاعدہ مذاکرات کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔