 |
|
بھارت کے صوبے آسام میں خشک سالی |
آب و ہوا کی تبدیلی کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی کانفرنس بالی میں ختم ہو گئی۔ کانفرنس کی مدت میں ایک روز کا اضافہ کیا گیا تا کہ کسی سمجھوتے کے بارے میں مفاہمت ہو سکے ۔ بالآخر امریکہ اگلے دو برسوں کے دوران مذاکرات کے کئی راوٴنڈزپر رضامند ہوگیا جو 2009ء میں مکمل ہوں گے۔
اِس سال کے شروع میں، اقوامِ متحدہ کے International Panel on Climate Change نے کئی رپورٹیں جاری کیں جن میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بلا شبہ انسانی سرگرمیوں سے دنیا کی حدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دنیا میں حدت کے اضافے کو ختم کرنے کے کوششوں کے لحاظ سے 2007ء انتہائی اہم سال تھا ۔ Pew Center on Global Change کی صدر آئلین کلاسن کہتی ہیں کہ یہ وہ سال تھا جب اِس مسئلے کے بارے میں دنیا کے رویے میں اہم تبدیلیاں آئیں۔ اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم نے سب کچھ طے کر لیا، لیکن اِس لحاظ سے کہ ہمیں کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے، اِس سال شاندار کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
اِ س سال کی ابتدا U.S. Climate Action Partnership کی تشکیل سے ہوئی۔ یہ تنظیم 27 امریکی کمپنیوں اور چھہ عوامی بھلائی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا اتحا د ہے جن کاکہنا ہے کہ ہمیں ایک ایسے لازمی قومی پروگرام کی ضرورت ہے جس کا ہدف یہ ہو کہ امریکہ میں 2050ء تک گرین ہاؤٴس گیسوں کے اخراج میں ساٹھ سے نوے فیصد تک کمی ہو جانی چاہیئے۔
پھر دسمبر کے اوائل میں آب و ہوا کی تبدیلی کے موضوع پر بالی میں اقوامِ متحدہ کی جو کانفرنس ہوئی اس میں اِس اتحاد کے ارکان نے ایک بار پھر نہ صرف اپنے عہد کو دہرایا بلکہ 2050ء تک گرین ہاوٴس گیس کے اخراج کو 90 فیصد تک کم کرنے کے مصمم عزم کا اظہار کیا۔
کلاسن کہتی ہیں کہ یہ ایک اہم اقدام ہے کیوں شروع میں صنعتی شعبے نے آب و ہوا کے بارے میں کیوٹو سمجھوتے کے تحت ایسے وعدے کرنے سے انکار کر دیا تھا جن کی پابندی ان کے لیے لازمی ہو:
’بہت بڑی تعداد میں کمپنیوں نے رضاکارانہ طور پر گرین ہاوٴس گیسوں کے اخراج کے ہدف مقرر کر لیے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے انھوں نے گیسوں کے اخراج کی پیمائش کی اور پھر یہ معلوم کیا کہ وہ کِس حد تک ان میں کمی کر سکتی ہیں۔ ٹکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی نظریں اب ایک ایسی دنیا پر ہیں جس میں کاربن کو کم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی ۔ اب بہت سی کمپنیاں ان توقعات کو پورا کرنے کے لیئے، جو گرین ہاوٴس گیسوں کو کم کرنے کے سلسلے میں ان سے وابستہ کی جا رہی ہیں، نئی ٹکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔‘
کلاسن کہتی ہیں کہ امریکی وفاقی حکومت نے تواِس سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا ہے لیکن کئی امریکی ریاستوں نے پہل کی ہے۔ فروری میں سات امریکی ریاستوں اور کینیڈا کے دو صوبوں کی کانفرنس ہوئی جسے Western Climate Initiative کا نام دیا گیا۔
پھر ایک اور اہم خبر آئی۔ چھہ امریکی ریاستوں اور کینیڈا کے ایک صوبے کے درمیان وسط مغربی علاقے کے لیے گرین ہاؤٴس گیس کے بارے میں ایک سمجھوتا ہوا۔ اگر یہ وسط مغربی علاقہ کوئی ملک ہوتا، تو امریکہ، چین، بھارت اور روس کے بعد یہ دنیا کا کاربن پیدا کرنے والا پانچواں سب سے بڑا ملک ہوتا۔ وسط مغربی علاقے کے اِس سمجھوتے میں دنیا میں گرمی کم کرنے کے بڑے حوصلہ افزا اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔اِس کے تحت رکن ممالک کو توانائی کے بہتر استعمال، اور حیاتیاتی ایندھن مثلاً پودوں اور نباتات سے زیادہ توانائی حاصل کرنا ، اور کوئلے سے چلنے والے کارخانوں کے لیئے کاربن کے بخارات کو ماحول میں شامل ہونے سے پہلے جمع کرنا اور انہیں محفوظ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
توقع ہے کہ 2030ء تک یہ علاقہ اپنی ضرورت کی توانائی کا 30 فیصد حصہ قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنے لگے گا۔
اِسی قسم کا پیغام اکتوبر کے آخر میں پرتگال کے شہر لزبن سے ملا۔ اِس شہر میں یورپی ملکوں، نیو زی لینڈ، اور کئی امریکی ریاستوں اور کینیڈا کے صوبوں نے متحد ہو کر ایک تنظیم، International Carbon Action Partnership تشکیل دی
کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے وزیرِ اعلی گورڈن کیمپبیل اور امریکی ریاست نیو جرسی کے گورنر جان کورزین اِس سمجھوتے پر دستخط کرنے کے لیے پرتگال آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اِس سمجھوتے سے انہیں کاربن کے بخارات اور گرین ہاوٴس گیسوں کو کم کرنے کی کوششوں کو مربوط کرنے کا ایک اور موقع ملا ہے۔
امریکی کانگریس میں کاربن کے بخارات کی حد مقرر کرنے کے لیئے ایک قانون پر غور ہو رہا ہے ۔ وائٹ ہاوٴس نے اِس قسم کی حد پر لازمی طور پر عمل کرنے کی پابندی کی کُھل کر مخالفت کی ہے اور اس کے بجائے وہ بخارات میں رضاکارانہ طور پر کمی کرنے کا حامی ہے۔
آئیلین کلاسن کہتی ہیں کہ شاید اِس قسم کے قانون کے لیئے ہمیں جنوری 2009ء میں نئے امریکی صدر کے حلف اٹھانے تک انتظار کرنا پڑے۔وہ کہتی ہیں کہ انتظامیہ میں تبدیلی سے امریکہ کے لیئے زیادہ اچھی شرائط پر سمجھوتے کے لیئے مذاکرات میںآ سانی ہو گی جو 2012ء میں کیوٹو پروٹوکول کے ختم ہونے کے بعد نافذالعمل ہوگا:
’کاربن کا اخراج کرنے والے تمام بڑے بڑے ملکوں کی طرف سے اپنے وعدوں کی پابندی کا تصور واضح طورپر زیرِ بحث آنا چاہیئے۔ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور بالی کے بعدجب کبھی کسی نئے سمجھوتے کے لیے مذاکرات ہوں، ان میں سے اسے خارج نہیں کیا جانا چاہیئے۔‘
کلاسن کہتی ہیں کہ دو واقعات سے 2007ء میں حوصلہ افزا رجحانات کی عکاسی ہوتی ہے۔ پہلا واقعہ تو یہ ہے کہ 2007ء وہ سال تھا جب آب و ہوا میں تبدیلی کی بنیاد پر، ایک امریکی ریاست نے کوئلے سے چلنے والے بجلی کے کارخانے کے پرمٹ کی درخواست مسترد کر دی۔ دوسری اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ 2007ء میں 80 ملکوں کے سربراہ اقوامِ متحدہ کے ایک خصوصی اجلاس میں حاضر ہوئے اور انھوں نے اعتراف کیا کہ آب و ہوا کی تبدیلی کے مسئلے پر فوری اقدام کرنا ضروری ہے ۔