 |
|
تپِ دق کے مریض کے پھیپھڑوں کا ایکس رے |
عالمی ادارہٴ صحت نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ تپِ دق کا علاج موجود ہے اور ساری دنیا میں اس کی شرح بھی کم ہو رہی ہے لیکن اس کے باوجود تپِ دق ایک ایسی خطرناک بیماری ہے جس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھی ہے۔
اس بیماری سے نوجوان اور خواتین سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اور تپِ دق کے شکار ان افراد کو اپنی زندگی کا کافی وقت تکلیفوں اور پریشانیوں میں گزارنا پڑتا ہے۔
پوری دنیا میں اس بیماری سے سال 2006ء میں تقریباً 15 لاکھ افراد موت کا شکار ہوئے ہیں جبکہ 90 لاکھ افراد میں اس بیماری کے جراثیم پائے گئے۔
تپِ دق ایک متعدی یعنی چھوت کی بیماری ہے اور جب اس کا مریض کھانستا ہے تو ہوا کے ذریعے اسکے بلغم میں موجود تپِ دق کے جراثیم دوسرے انسان تک پہنچ جاتے ہیں اور اس طرح ایک دوسرا تپِ دق کا مریض تیار ہو جاتا ہے۔
عالمی ادارہٴ صحت کے لیے رپورٹ تیار کرنے والے مصنفین میں سے ایک کیتھرین فلوئڈ نے لندن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بیماری کے انفیکشن کو جانچنے کے لیے مزید اقدامات کیے جانے چاہیئں تاکہ اس کی مکمل روک تھام ہو سکے۔
انہوں نے کہا ہمارے اندازے کے مطابق صرف چین میں تپِ دق کے 80 فیصد کیس حل کر لیے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی شرح میں کمی نہیں ہوئی، جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انفیکشن پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
رپورٹ کے مطابق بیماری کی روک تھام کے لیے مختص رقم تھوڑی ہے اور اس سلسلے میں مزید رقم درکار ہیں، جبکہ لوگوں میں اس بیماری کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم ایک ارب ڈالر کی رقم دنیا بھر سے اس بیماری کے خاتمے کے لیے ضروری ہے۔
اس کے علاوہ افریقہ میں یہ تپِ دق ایک موذی مرض ثابت ہوا ہے اور اس کے مریض ایچ آئی وی کا شکار بھی ہوئے ہیں۔
تاہم تنظیم کی جانب سے جاری شدہ اس رپورٹ میں امید کی کرن بھی دکھائی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے چند خطوں میں اس بیماری پر قابو پانے لیے جدوجہد کامیاب رہی ہے۔ اور اگر اسی سمت میں اقدامات لئے جاتے رہے تو 2015ء تک تپِ دق سے ہونے والی اموات کی تعداد 1990ء کے مقابلے میں آدھی رہ جائیں گی۔
 |
|
دنیا کے مختلف خطوں میں تپِ دق کے مریضوں کی شرح |