امریکہ میں آب و ہوا کے ایک ممتاز سائنس دان نے کہا ہے کہ عالمی تپش کے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج میں زبر دست کمی کی ضرورت ہے۔
خلائی ریسرچ کے ناسا کے ادارے، گوڈرڈ انسٹی ٹیوٹ فار سپیس اسٹڈیز کے ڈائرکٹر جیمز ہنسن نے کہاہے کہ دنیا پہلے ہی فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی اپنی انتہائی سطح، 385 حصے فی ملین تک پہنچ گئی ہے۔
مسٹر ہنسن نے کہاہے کہ 20 سال پہلے ہی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار اپنی محفوظ سطح ، یعنی 350 حصہ فی ملین کی حد عبور کر چکی تھی۔
مسٹر ہنسن اور ان کے آٹھ ساتھی مصنفین کی تحقیق کے نتائج جریدے’سائنس‘ میں شائع ہوئے ہیں۔
مضمون میں مسٹر ہنسن اور ان کے ساتھیوں نے فوری طور پر گیسوں کے اخراج پر کنٹرول نہ کرنے والےکوئلے سے چلنے والےبجلی گھروں کی تعمیر بند کرنے اور 2030ءتک موجودہ پلانٹس کو مرحلہ وار بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
ہنسن نے کہاہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے موجودہ اخراج میں فوری طور پر کمی میں ناکامی سے عالمی تپش کی سطح اس سے کہیں زیادہ ہو جائے گی جتنا کہ اس سے قبل اندازہ لگایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی تپش کے سنگین نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں جن میں سمندر کی سطح کا بلند ہونا اور انٹارکٹک اور گرین لینڈ کی برفانی تہوں کے بڑے حصوں کا پگھلنا شامل ہیں۔