اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون نے کہا کہ وہ اس ٹاسک فورس کی قیادت کریں گے جس کا مقصد عالمی سطح پر خوراک کی ہوش ربا گرانی کا سدِّ باب کرنا ہے۔
انہوں نے آج منگل کے روز سوئٹزر لینڈ کے شہر برن میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی اجلاس کے اختتام پر یہ بات کہی۔ عالمی پیمانے پر خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مسئلے پر غور کرنے کے لیے اس خصوصی اجلاس میں 27 بین الاقوامی ایجنسیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
عالمی اداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر خوراک کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا جتن کریں گے۔
پوری دنیا اور خاص طور سے پسماندہ ممالک اس کا شکار ہو رہے ہیں اور اس کی وجہ سے بھوک اور افلاس زدہ ملکوں میں فسادات اور خوں ریزی کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بھوکے عوام کو خوراک فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے تمام ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خوراک کےعالمی پروگرام کے لیے ساڑھے سات کروڑ ڈالر کی اضافی امداد جلد از جلد فراہم کریں۔
دنیا بھر میں خوراک کی بے تحاشا بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ آبادی، ترقی پذیر ممالک میں خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب اور بائیو ایندھن میں استعمال آنے والی فصلوں کی کاشت میں اضافے کے علاوہ سیلابوں اور خشک سالی جیسے عناصر شامل ہیں۔