 |
| خوراک کی قلت ایک عالمی مسئلہ |
دنیا بھر میں خوردونوش کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک کی قلت ایک عالمی مسئلہ بن سکتا ہے جس سے بالحضوص تیسری دنیا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک برس کے دوران گندم کی قیمت میں دو گنا جبکہ چاول کی قیمت میں تین گنا اضافہ ہوچکاہے۔ چاول دنیا کی تین ارب آبادی کی بنیادی خوراک ہے اور اکثر غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں چاول کا استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کی قیمت میں اضافے سے غریب اور کم آمدنی والے طبقے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح کھانے پکانے کے تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین غدائی قلت کی وجہ متبادل ایندھن کے لیے اگائی جانے والی فصلوں اور نامسائد موسمی حالات کو قرار دیتے ہیں۔ بہت سی قابل کاشت زمینیں جن پر پہلے غدائی اجناس کاشت کی جاتی تھیں ، اب وہاں کاشت کار زیادہ منافع کے حصول کے یے بائیو فیول کے لیے استعمال ہونے والی فصیلں اگا رہے ہیں جس کی وجہ سے خوردنی اجناس میں کمی ہورہی ہے۔
صدر بش نے غدائی قلت کے لیے بھارت کی معاشی ترقی کو بھی مورد الزام ٹہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں پر خوش حال متوسط طبقے کا حجم بڑھا ہے اور ان کی قوت خرید میں اضافے ہوا ہے۔ اب وہ پہلے سے زیادہ اشیاء خرید رہے ہیں جس سے اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غدائی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں اور اگر اس پرقابو پانے کے لیے جلد سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا ایک بڑے بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔