گذشتہ ہفتے نیویارک میں ایک سائنسی میلہ برپا کیا گیاجس میں سائنس اور انسان کے مستقبل کے بارے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی گئیں اور ایسی ایجادات کے منصوبے پیش کیے گئے جن سے انسان کی زندگیوں پر انتہائی گہرے اور دور رس اثرات پڑیں گے۔
ایسی چند ایجادات کے نمونے ملاحظہ ہوں:
کیا آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سلسلے میں آپ کی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہو چکی ہیں؟ فکر نہ کیجیئے، دس برسوں کے اندر اندر ایک ایسی دوا مارکیٹ میں آ جائے گی جس کے استعمال سے آپ جو چاہیں کھائیں، وزن میں اضافہ نہیں ہو گا۔
کیا گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج اور دنیا کی بڑھتی ہوئی حدت کی فکر میں آپ کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں؟ اطمینان رکھیے، 20 سال کے اندر اندر شمسی توانائی کے میدان میں اتنی ترقی ہو جائے گی کہ اس سے دنیا کی توانائی کی تمام ضروریات پوری ہو سکیں گی۔
اسی میلے میں شامل ایک سائنس دان ڈاکٹر کرزوائل نے ایک اور خوش کن قیاس آرائی بھی کی ۔ انھوں نے کہا کہ اگلے 15 برس کے اندر اندر طبی سائنس اتنی ترقی کر لے گی کہ انسان کی متوقع عمرمیں اس سے زیادہ تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہو جائے گا جتنی تیزی سے وہ بوڑھا ہوتا ہے۔ اور اکیسویں صدی کے نصف تک پہنچتے پہنچتے انسان اور کمپیوٹر کا ادغام ممکن ہو جائے گا، جس کے بعد موت کا تصور ہی فنا ہو جائے گا۔
اگرچہ اس بات پر یقین کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر کرزوائل کے ناقدین بھی یہ مانتے ہیں کہ وہ ہوا میں تیر نہیں چلاتے بلکہ ان کی تحقیقات ٹھوس سائنسی حقائق پر مبنی ہوتی ہیں۔
مثال کے طور پر انھوں نے 1990ء پیش گوئی کی تھی کہ 1998ء کے آتے آتے کمپیوٹر شطرنج کے کھیل میں اس کے عالمی چیمپیئن کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اگرچہ اس وقت اکثر لوگوں نے اس خیال آرائی کا مذاق اڑایا لیکن 1998ء سے ایک برس پیشتر ہی آئی بی ایم کمپنی کے تیار کردہ ’ڈیپ بلو‘ نامی کمپیوٹر نے شطرنج کے عالمی چیمپئن گیری کاسپاروف کو ہرا کر دنیا بھر کو حیران کر دیا۔
اسی طرح ڈاکٹر کرزوائل نے 1980ء کے عشرے ہی میں انٹرنیٹ کے دنیا بھر میں پھیلاؤ کی پیش گوئی کی تھی جو بعد میں حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔
وہ کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے بعض شعبوں میں حیرت انگیز تیزی سے ترقی ہوتی ہے۔مثال کے طور پر ایک صدی قبل کی مشینوں کی صلاحیت ہر تین سال بعد دگنی ہوتی تھی۔ بیسویں صدی کے وسط میں یہ رفتار بڑھ کر دو سال ہو گئی۔ آج کل مشینیوں کی صلاحیت ہر سال دگنی ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر کرزوائل کا دعویٰ ہے کہ آج کے دور میں بایالوجی، طب، توانائی اور دوسرے شعبوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وجہ سے انقلاب آ رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 2020ء تک اس ترقی کی وجہ سے انسان اس قابل ہو جائے گا کہ وہ دماغ میں کمپیوٹر چِپ داخل کر سکے اور ایسے کمپیوٹر تیار کر سکے جو انسانوں جتنے ہی ذہین ہوں۔
تاہم اسی میلے میں شامل ایک نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر رام چندرن نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔ انھوں نے ڈاکٹر کرزوائل سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ انسان ایک ذہین اور سوچنے والا کمپیوٹر تو بنا ڈالے لیکن یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ انسانی دماغ کی صلاحیت کو کمپیوٹر چِپ لگا کربہتر بنایا جاسکے کیوں کہ دماغ کروڑوں برس کے ارتقائی عمل کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے اور اس کے سرکٹ انتہائی بے ترتیب اور من مانے ہیں۔
کئی دوسرے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ انسان جیسا ذہین کمپیوٹر بننا تو ممکن ہے لیکن اس پر بہت وقت لگے گا۔ لیکن تمام تر تنقید کے باوجود ڈاکٹر کرزوائل اپنی پیشن گوئیوں کے سلسلے میں اتنے پر یقین ہیں کہ انھوں نے دس ہزار ڈالر کی شرط لگائی ہے کہ 2029ء تک ایسا کمپیوٹر معرضِ وجود میں آ جائے گا جو ٹورنگ ٹیسٹ سے کامیابی سے گزر جائے۔ اس ٹیسٹ کی شرط یہ ہے کہ کمپیوٹر انسان کے ساتھ اتنی ذہانت سے گفتگو کر سکے کہ اسے اس بات کا پتا نہ چل سکے کہ اس سے کوئی مشین مخاطب ہے۔
ڈاکٹر کرزوائل کی پیشن گوئیوں میں سے اگر کچھ بھی درست ثابت ہوئیں تو سوچیے کہ آنے والے دنوں میں دنیا کا کیا نقشہ ہو گا۔