تنزانیا کے میدانوں میں دنیا کے شیروں کی کل آبادی کی نصف تعداد بستی ہے۔ اس کے سیرنگیٹی پارک میں تین ہزار کے لگ بھگ شیر موجود ہیں۔ امریکہ کی یونی ورسٹی آف منی سوٹا کے ماحولیات کے پروفیسر کریگ پیکر اسی سیرینگیٹی پارک میں پچھلے 30 برسوں سے شیروں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 1994ء میں اچانک شیر بڑی تعداد میں مرنے لگے۔ ان کے اندازے کے مطابق تھوڑے عرصے کے اندر اندر ایک ہزار کے لگ بھگ شیر ہلاک ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے گذشتہ تیس برسوں میں کبھی اتنی بڑی تعداد میں شیروں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ پھر 2001ء میں ایک قریبی پارک میں یہی واقعہ ایک بار پھر دہرایا گیا۔ پیکر نے شیروں کے خون کے معائنے سے معلوم کیا کہ ان شیروں کی ہلاکتیں ایک قسم کے وائرس سے ہوئی تھیں جس سے ان میں خسرے سے ملتی جلتی بیماری پیدا ہوتی ہے۔ تاہم اگر کسی جانور کو خسرہ ہو جائے تو اس کے جسم میں وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہو جاتی ہے اور اسے دوبارہ خسرہ نہیں ہوتا۔ شیروں میں بھی یہ بیماری ہوتی ہے لیکن عام طور پر یہ مہلک ثابت نہیں ہوتی۔ تو پھر 1994ء اور 2001ء میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سبب کیا ہے۔ اوراس کا جواب ہے خشک سالی۔ پیکر کہتے ہیں کہ 1993ء میں مشرقی افریقہ بدترین خشک سالی کی لپیٹ میں آ گیا تھاجس کی وجہ سے شیروں کامن پسند کا من پسند کھاجا جنگلی بھینسیں ہلاک ہونا شروع ہو گئی۔ شیروں کے لیے قحط کی ماری ہوئی بھینسیں بہت آسان شکار تھیں اور خاصے عرصے تک اس نے بھینسوں کے علاوہ کچھ نہیں کھایا۔ لیکن یہ سودا شیروں کے لیے مہنگا ثابت ہوا کیوں کہ یہ بھینسیں پسو کے ذریعے پھیلنے والے مرض میں مبتلا تھیں۔ جوں ہی خشک سالی ختم ہوئی، شیروں پر خسرے نے حملہ کر دیا۔ چوں کہ شیروں کا مدافعتی نظام پسوؤں کی وجہ سےپہلے ہی کمزور ہو چکا تھا، اب خسرے نے جب انھیں نشانہ بنایا تو وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایڈز کے مریض کو ٹی بی ہو جائے تو وہ اس کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ پیکر کہتےہیں کہ ماحولیاتی تپش کی وجہ سے شیروں کی آبادی کو شدید خطرات لاحق ہیں کیوں کہ دنیا کا درجہٴ حرارت بڑھنے سے خشک سالی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔