سپین میں پانی کا میلہ، قلت کےحل تلاش کرنے کی تگ و دو
July 23, 2008
سپین کے شمال مشرقی شہر ساراگوسا میں پانی سے متعلق ایک میلے کی میزبانی کی جارہی ہے۔ پانی ایک انتہائی ضروری شے ہے مگراس کا مؤثر ا ور صحت بخش ہونا حتیٰ کہ اس کا وجود ہی رفتہ رفتہ مخدوش ہوتا جا رہا ہے۔سپین میں پانی کی قلت پرانا مسئلہ ہے۔ملک کو شہروں کی تعمیر و ترقی، سیاحت، زراعت، اور ماحولیات کی تبدیلی جیسے مسائل کاسامنا بھی ہے۔ ساراگوسا کا یہ بین الاقوامی وسیع و عریض میلہ ستمبر تک جاری رہے گا۔دنیا بھر سے ممالک اس میں نمائشیں لگا رہے ہیں۔اور مقامی موسیقار دن بھر اور رات گئے تک موسیقی کے کنسرٹ پیش کرتے ہیں۔پانی کی اہمیت واضح کرنے کے لیےدریائے ایبر کی وادی میں واقع یہ قدیم شہر بہت اچھی جگہ ہے ۔ پانی کی قلت جنوبی سپین میں بھی شدید مسئلہ ہے اور شمال مشرق میں بھی، جہاں ساراگوسا واقع ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک سالیوں کے باعث آب وہوا میں تبدیلیاں آ رہی ہیں اور اس وجہ سے پانی کا مسئلہ اور بھی سنگین ہو گیا ہے۔ بحیرہٴ روم کے کنارے پر واقع شہر بارسلونا میں تو اس سال فرانس سے پانی درآمد کرنا پڑا۔وہاں شدید بارشیں بھی ہوئیں لیکن وہ زیادہ عرصہ جاری نہ رہیں۔ فرانس کےایک ماہرِ اقتصادیات کیوِن پیرس کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے سیاستدانوں کو کچھ کرنا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ صاف ظاہر ہے کہ قومی اور مقامی حکومتوں کے سامنے پانی کا بڑا مسئلہ موجود ہے۔بنیادی طور پر اس لیے کہ زراعت، سیاحت اور شہری تعمیرو ترقی کے میدانوں میں بڑا مقابلہ ہے۔خاص کر ساحلی علاقوں میں۔ بحیرہ ٴ روم کے ساحل پر دوسرے ممالک جیسے یونان اور پرتگال میں بھی پانی کا ویسا ہی بحران ہے۔اور ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق ِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ بھی عن قریب اس مسئلے کا شکار ہونے والے ہیں۔ ساراگوسا میں کانفرنس کے منتظم اور پانی کے عالمی ماہر ایدواردو میسترے کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ پانی کا انتظام بہتر کیا جائے اور بہتر ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔سپین پہلے ہی ان میں کچھ مشوروں پر عمل کر رہا ہے۔مثلاً سمندر کے پانی سے نمک نکال کر اسے پینے کے قابل بنانے کے لئے حکومت دو پلانٹ لگا چکی ہے اور مزیدپانچ لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس کے علاوہ ضائع شدہ پانی کو بچا کر قابلِ استعمال بنانے کے لیے بھی پلانٹ زیر ِ تعمیر ہیں۔ان منصوبوں کے ڈائریکٹر فریدرک سرتین کا کہنا ہے کہ سپین اس میدان میں یورپی ممالک میں سب سے آگے ہے۔ پلانٹ میں خراب پانی کو نتھارنے کے لیے اس کو کئی مرحلوں سے گذارا جاتا ہے۔اور تب یہ فصلوں کے لیے کارآمد بن سکتا ہے۔پینے کے قابل یہ پھر بھی نہیں ہوتا۔صفائی کے بعد جو کوڑا کرکٹ بچ رہتا ہے اسے ایندھن کے طور پر پلانٹ کی مشینیں چلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سمندری پانی سے نمک دور کرنا بھی خاصا متنازعہ معاملہ ہے کیونکہ اس عمل میں بہت سی توانائی صرف ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پانی کی قلت کے مسائل پر قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف سپین بلکہ دنیا بھر میں آبی جنگیں چھڑ سکتی ہیں۔یعنی بہت سے ممالک پانی کے مسئلے پر دست و گریباں ہو سکتے ہیں۔