دنیا میں آبادی کے رجحانات پر شائع ہونے والی ایک سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبادی میں تقریباً تمام اضافہ دنیا کے غریب ترین ملکوں میں ہو رہا ہے۔
واشنگٹن میں قائم پاپولیشن ریفرنس بیوریو کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے مال دار صنعتی ملکوں کے مقابلے میں دنیاکے غریب ترین ملکوں میں شرح پیدائش بہت زیادہ ہے اور ان ملکوں کی آبادی کا بڑا حصہ نسبتاً کم سن ہے۔
اِس رپورٹ کے ایک مصنف کارل ہوب کہتے ہیں کہ دنیا کے مال دار ملکوں میں آبادی کم ہوتی جا رہی ہے اور غریب ملکوں میں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مثلاً آج کل ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو کی آبادی تقریباً اتنی ہی ہے جتنی اٹلی کی ہے۔ لیکن 2050ء تک اٹلی کی چھ کروڑ آبادی چھہ کروڑ بیس لاکھ ہو جائے گی جب کہ کانگو کی آبادی اسی عرصے میں تین گنی ہو کر تقریباً 19 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کانگو میں شرح پیدائش اٹلی کے مقابلے میں پانچ گنا ہے۔ گذشتہ سال اٹلی میں پانچ لاکھ 68 ہزار بچوں کی پیدائش ہوئی جب کہ کانگو میں 30 لاکھ بچے پیدا ہوئے۔ یہ کوئی معمولی فرق نہیں ہے۔
آبادی کے متعلق گذشتہ ہفتے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی آبادی جو آج کل چھہ اعشاریہ سات ارب ہے، 2050 ءتک سوا نو ارب تک پہنچ جائے گی۔
اگلے کئی عشروں میں دنیا کے بہت سے مال دار ملکوں کی آبادی کم ہو جائے گی۔ جن ملکوں کی آبادی کم نہیں ہو گی، جیسے امریکہ، وہاں آبادی میں زیادہ اضافہ نقل ِ مکانی کی وجہ سے ہوگا، شرح پیدائش میں اضافے سے نہیں۔
پاپولیشن ریفرنس بیوریو کی لنڈا جیکب سن کہتی ہیں کہ 2050ءتک بھارت کی آبادی ڈیڑھ گنا ہو جائے گی۔ تا ہم چین میں آبادی کے بڑھنے کی شرح کہیں کم ہے، اگرچہ وہ آج کل دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔
اِس کا مطلب یہ ہوا کہ عالمی آبادی کے اعداد و شمار کے مطابق 2050ءمیں بھارت دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہو گا، چین دوسرے نمبر پر ہوگا اور امریکہ تیسرے نمبر پر، جب کہ 2050 ءتک افریقہ کی آبادی دو ارب ہو جائے گی۔
غریب ملکوں میں شرح پیدائش بہت زیادہ ہوتی ہے اور صحت کی حالت اتنی ہی خراب۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں بہت سی عورتیں بچے کے پیدائش کے دوران ہلاک ہو جاتی ہیں۔ لیکن کال ہوب کہتے ہیں کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں زچگی کی پیچیدگیوں سے ہلاک ہونے والی عورتوں کی شرح میں بڑا فرق ہے:
’ترقی یافتہ ملکوں میں 7300 حاملہ عورتوں میں سے صرف ایک عورت کے حمل سے متعلق پیچیدگی سے ہلاک ہونے کا امکان ہوتا ہے۔مشرقی ایشیا میں یہ تعداد 1200 عورتوں میں ایک ہے۔ شمالی افریقہ میں ہر 210 میں سے ایک، اور جنوبی ایشیا میں ہر 61 عورتوں میں سے سے ایک عورت حمل کی پیچیدگیوں سے ہلاک ہو جاتی ہے۔ اور آخر میں افریقہ کے زیریں صحارا کے علاقے میں یہ شرح،سب سے زیادہ ہے یعنی ہر 22 حاملہ عورتوں میں سے ایک بچے کی پیدائش میں ہلاک ہو جاتی ہے۔‘
صحت کی بہتر سہولتوں سے حاملہ عورتوں اور نوزائیدہ بچوں کے زندہ بچنے کے امکانات بہتر ہو جاتے ہیں لیکن اگر عورت کے حاملہ ہونے کی شرح کم ہوجائے تو بھی اس کی زندگی بچنے کے امکان روشن ہو جاتے ہیں۔جن گھرانوں میں بچے بہت زیادہ ہوتے ہیں ان میں سب کو پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا یا صحیح قسم کا کھانا ملنا مشکل ہوتا ہے۔ پاپولیشن ریفرنس بیوریو کے رچرڈ شولکن کہتے ہیں کہ اگر بچے کو عمر کے پہلے سال میں پوری غذائیت نہ ملے، تو اس کے اثرات پوری زندگی پر پڑتے ہیں:
’دنیا کی آبادی کے خاصے بڑے حصے کو پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا یا صحیح قسم کی غذ ا نہیں ملتی۔ چھوٹے بچوں میں اکثر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نشو ونما رک جاتی ہے اور وہ ٹھٹھر کر رہ جاتے ہیں۔ ان کا قد ان کی عمر کے مقابلے میں چھوٹا رہ جاتا ہے۔ جسم کی مناسب نشو و نما نہ ہو تو دماغی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں اور بلوغت پر پہنچنے کے بعدپیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔‘
بیوریو کے مطابق ترقی پذیر ملکوں میں ہر پانچ میں سے ایک شخص غذائیت میں کمی کا شکار ہے اور بعض ملکوں میں نصف سے زیادہ آبادی کو پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا۔