گیارہ ستمبر کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان جو تعاون شروع ہوا اس میں امریکہ کے امدادی ادارے یو ایس ایڈ کا کردار بہت نمایاں رہا ہے۔ وائس آف امریکہ نے پاکستان میں گذشتہ سات سالوں کے دوران اس ادارے کی سرگرمیوں کے بارے میں یو ایس ایڈ کے سینئر ڈپٹی اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر برائے ایشیا اور مشرق قریب مارک وارڈ سے ایک خصوصی انٹرویو کیا۔
پاکستان میں لگ بھگ ایک عشرے سے زیادہ تعطل کے بعد امریکی امدادی پروگرام کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیے جانے کے بارے میں مارک وارڈ کا کہنا تھا کہ مجھے یاد ہے جب مجھ سے کہا گیا کہ میں پاکستان واپس جاکر یو ایس ایڈ کی سرگرمیاں پاکستان میں دوبار شروع کرنے کی ذمہ داری سنبھالوں جو کہ 90 کی دہائی میں معطل کردی گئی تھیں۔ اس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم اتحادی کی مدد کرنا تھا۔ امریکی صدر اور وزیرِ خارجہ کا یہ کہنا تھا کہ ہمیں سیکورٹی کے میدان کے ساتھ ساتھ سماجی شعبے میں بھی پاکستان کی مدد کرنی چاہیے۔ اور اسی مقصد کے تحت یو ایس ایڈ کی سرگرمیاں طویل وقفے کے بعد پاکستان میں دوبارہ شروع کی گئیں۔
مارک وراڈ کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام شروع کرنے ایک اہم مقصد سماجی شعبوں میں پاکستانیوں کی مدد کرنا تھا ان کا کہناتھا کہ امریکی انتظامیہ میں یہ سوچ موجود تھی کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ان کا اتحادی ہے اس لیے حکومت کے ساتھ تعاون کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کی بھی مدد کی جائے۔ ہمیں یہ معلوم تھا کہ 90کی دہائی میں یو ایس ایڈ کا سرگرمیاں معطل ہونے کے بعد بہت سے سماجی شعبوں میں ترقی کا فقدان دیکھنے میں آیا جس کے باعث ہمیں اور خود حکومتِ پاکستان کو بھی تشویش تھی۔ پاکستانی حکومت یہ چاہتی تھی کہ ہم دیگر امدادی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں ان کی مدد کریں خصوصاً تعلیم اور صحت کے شعبوں میں۔
یوایس ایڈ نے پاکستان کو مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کررہی ہے۔ ان شعبوں کے بارے میں مارک وارڈ کا کہنا تھا کہ 2002 میں ہم نے چار شعبوں میں کام شروع کیا تھا۔ یعنی صحت، تعلیم ، نجی شعبے کے فروغ اوعر جمہوریت کا فروغ۔ اب ہم ان کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں بھی کام کررہے ہیں جیسے کہ قبائلی اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے عوام کی مدد۔ پاکستان کے لیے یو ایس ایڈ کی امداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ جب میں 2002 میں پاکستان گیا تھااس وقت ہم ایک پروجیکٹ کے لیے سال میں تقریباً 5 کروڑ ڈالرز خرچ کررہے تھے لیکن اگلے سال کے لیے کانگریس میں جو بجٹ زیرِ غور ہے وہ ماضی کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔ ویسے تو ہر شعبے میں ہی ہماری امداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ اضافہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ہوا ہے۔
امریکی امدادی کارروائیوں کے نتائج کا ذکرکرتے ہوئے مارک وارڈ نے کہا کہ جن علاقوں میں ہم صحت اور تعلیم کے لیے کام کررہے ہیں وہاں ان شعبوں میں ترقی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرنے کے لیے ہماری حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ 1990 کی دہائی میں کم عمر بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ تھی لیکن2002کے بعدکم عمر بچوں کی شرحِ اموات میں 16 فیصد کمی آئی ہےاور اسکا کریڈٹ صرف یو ایس ایڈ کو نہیں جاتا کیونکہ دیگر بین الاقوامی ایجنسیوں نے بھی اس سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور ہمیں یہ کامیابی ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی وجہ سے ہی حاصل ہوئی۔ اسی طرح تعلیم کے شعبے میں ہم جن علاقوں میں کام کررہے ہیں یعنی سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد کے قریبی علاقے، وہاں اسکولوں میں داخلوں میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہےاور بچے تعلیمی سال مکمل کررہے ہیں۔