گیارہ ستمبر 2001 کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ سرِ فہرست تھی۔ جس وقت یہ تعاون شروع ہوا اس وقت وینڈی چیمبرلین پاکستان میں امریکہ کی سفیر تھیں۔ کوکب فرشوری نے ان سے وائس آف امریکہ کے لیے خصوصی انٹرویو میں پوچھا کہ کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کاتعاون حاصل کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔
اپنے اس انٹرویو میں وینڈی چیمبرلین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو شروع کیے جانے اور اس پر عمل درآمد کے لیے اختیار کیے جانے کے طریقے کا دفاع کیا۔
پاکستان میں حزبِ اختلاف کی کچھ جماعتوں اور بعض تجزیہ نگاروں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ سے تعاون کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کے تعاون کرنے کے نتیجے میں پاکستان میں خود کش حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن وینڈی چیمبر لین اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتیں۔
پاکستان اور امریکہ دونوں ممالک میں آنے والے اہم سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں پاک امریکہ تعلقات میں کسی قسم کی تبدیلی آنے یا نہ آنے کے حوالے سے بھی وینڈی چیمبرلین نے بات کی۔