مسلمان کمیونٹی میں لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنا، اپنے بارے میں پائی جانے والی بدگمانیاں دور کرنا اور لوگوں کو ایف بی آئی کے تفتیشی طریقوں کے بارے میں بتانا۔ یہ وہ چند ایسے اقدامات ہیں جن کے ذریعے نائین الیون کے بعد ایف بی آئی امریکہ میں رہنے والے پاکستانیوں اور مسلمان کمیونیٹیز کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایف بی آئی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جان ملر کہتے ہیں کہ تا جروں سے لے کے مساجد کے اماموں تک، تمام طبقوں کے افراد کے ساتھ رابطہ قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہم اپنی کمیونٹی کے نمایاں مقامی طلبہ کے ساتھ بھی تعلقات قائم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔
ایف بی آئی کے ایک اسسٹنٹ ڈائریکڑ جان ملر کا کہنا ہے کہ مسلمان کمیونٹی کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے میں ایف بی آئی اور امریکی حکومت کا بہت فائدہ ہے۔
اسی سلسلے میں نائین الیون کے بعد ایف بی آئی نے امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی ایک خاص پروگرام کا آغاز کیا، اور خصوصی طور پر سکولوں اور کالجوں کے طلبہ کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔
جان ملر کہتے ہیں کہ پاکستانی کمیونٹی کے اہم افراد کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات قائم ہیں لیکن ہم کالج اور ہائی سکول کے مسلم طالب عملوں کے ساتھ رابطہ قائم نہیں کر پائے تھے۔ اسی گروپ میں ایف بی آئی کے بارے میں سب سے زیادہ بد گمانیاں اور شکوک وشبہات موجود تھے۔
نوجوانوں کے اس گروپ کے ساتھ تعلقات بڑھاناایف بی آئی کے لیے بہت ضروری تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی طرف لوگوں کو مائل کرنے کا مواد اور لٹریچر عمومِاَ کالج اور سکول کے بچوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اور یہ مواد ان بچوں تک ریڈیو اور ٹی وی کے بجائے انٹرنیٹ اور چیٹ رومز کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹرجان ملر کا کہنا ہے کہ آپس میں گفتگو شروع کرنا آسان نہیں ہے مگر یہ بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے صرف کمیونٹی کو ہی نہیں، بلکہ ایف بی آئی کو بھی بہت فائدہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سوچا کہ بہتر یہی ہو گا کہ ان کے ذہنوں میں جو بھی سوالات ہیں، وہ ہم سے براہ راست پوچھ سکیں۔ اور ان کے سوالات اور الزامات کا ہم صحیح انداز میں جواب دے سکیں۔ ایف بی آئی کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں جو بھی غلط فہمیاں ہیں، ان کو دور کیا جا سکے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملر کا کہنا ہے کہ اس تبادلہ خیال کے نتائج فوری طور پر ظاہر نہیں ہوں گے تاہم ہمیں یقین ہے کہ ایف بی آئی اپنے 56 مقامی دفاتر کی مدد سے امریکہ بھر میں مسلمانوں اور پاکستانی کمیو نٹی کے ساتھ تعلقات ہموار کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہر دوسرے ماہ ہم اپنے فیلڈ آفس کے ماہرین کے ساتھ میٹنگ کرتے ہیں اور یہ جانچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کمیونٹی کے ساتھ تعلقات میں ہم کہاں تک آ گے بڑھے ہیں اور کن پہلو وں پر مزید توجہ کی ضرورت ہے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملر کہتے ہیں کہ اس وقت ایف بی آئی پاکستانیوں اور مسلمان کمیونٹی کے ساتھ آوٹ ریچ پروگرام پر سب سے زیادہ عمل کر رہا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملر کویقین ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات دوستی کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔