4 نومبر کو جب امریکی عوام ووٹ ڈالیں گے تو ان کی نظر میں جو چند بڑے مسائل ہوں گے ان میں سے ایک دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ہے۔ جس آغاز 11 ستمبر 2001 میں امریکہ پر ہونے والے حملوں کے بعداس وقت ہوا جب امریکہ نے طالبان حکومت کو ختم کرنے کے لیے افغانستان پر 7 اکتوبر 2001 کو حملہ کیا اور بعد میں بش انتظامیہ نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو بنیاد بنا کر 20 مارچ 2003 کو عراق پر بھی حملہ کر دیا۔
امریکی تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ صدارتی انتخابات کے دوران امریکہ جنگ لڑ رہاہو۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ انتخابات کے وقت امریکہ بیک وقت دو جنگیں لڑ رہا ہے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے مائیکل اوہنلن کا کہنا ہے کہ یقیناً عراق جنگ کا 9/11 براہِ راست تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ 9/11 کے دہشت گردوں کا تعلق عراق سے نہیں تھا۔ دوسری طرف القاعدہ اب عراق کو اپنے مقاصد کے لیے میدانِ جنگ بنا چکی ہے۔گزشتہ چند مہینوں میں حالات تبدیل ہوئے ہیں اور اب افغانستا ن اور پاکستان پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے تو میرے خیال میں ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ ہم ان دونوں محازوں میں سے کس کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ملکی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ان انتخابات میں نہائت اہم رہے گی۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار براک اوباما، عراق جنگ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے علیحدہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکی حملے سے پہلے عراق میں القاعدہ کا وجود بھی نہیں تھا جبکہ جان مک کین فی الحال فوج کو عراق میں رکھنے کی حمایت کرتے ہیں۔ مگر افغانستان پر دونوں امیدواروں کی سوچ یکساں ہے۔
ہیری ٹیج فاؤنڈیشن کی لیزا کرٹس کہتی ہیں کہ میرا خیال ہے کہ دہشت گردی کا معاملہ دونوں امیدواروں کے لیے بہت اہم ہے۔ افغانستان پر دونوں امیدواروں یعنی سینٹر اوباما اور سینٹر مکین کے بیانات بہت اہم تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہےکہ دونوں امیدوار افغانستان میں کوشش جاری رکھیں گے۔ میرا خیال ہے کہ خطے کے لوگوں اور ہمارے یورپی اور نیٹو اتحادیوں کو بتانا ضروری تھا کہ ہم افغانستان میں دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
جنگ کے لیے حکمتِ عملی پر دونوں امید واروں کی سوچ کا موازنہ کیاجائے تو جو ایک واضع فرق نظر آتا ہے اور وہ ہے اس کے طریقہ کار کا۔
مائیکل کہتے ہیں کہ اگر ہم پالیسی پر غور کریں تو یقیناً عراق پر دونوں امید واروں کےدرمیان اختلاف ہے ۔ اوباما ، جان مک کین کے مقابلے میں جلد وہاں سے فوجیں نکالنا چاہتے ہیں جبکہ مکین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مطلوبہ مقاصد کے حصول کے بعد ہی وہاں سے نکلنا چاہیے۔ دونوں امیدوار افغانستان پر زیادہ توجہ دینا چاہتے ہیں۔ اوباما وہاں سفارت کاری اور سیاسی طریقے بھی استمال کرنا چاہتے ہیں جبکہ مک کین وہاں پر فوجی قوت کے استعمال کے حق میں ہیں۔
براک اوباما افغانستان میں مزید 2 برگیڈز جبکہ مکین 3 برگیڈز بھیجنے کی بات کر چکے ہیں۔ لیزا کرٹس کے مطابق افغانستان پر امریکی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔ان کا کہنا ہے کہ میں سمجھتی ہوں کہ دونوں امیدواروں نے افغانستان پر اپنی حکمتِ عملی بیان کر دی ہے تو یہ واضح ہے کہ جو کوئی بھی 2009 میں وائٹ ہاؤس پہنچے، افغانستان امریکہ کی پہلی ترجیح ہو گا۔
سیاسی اور دفاعی مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ انتخابات کے بعد وائٹ ہاوس میں جو بھی پارٹی جائے ،دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی رہے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ خطے میں معاشی ترقی لائی جائے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر دوستانہ تعلقات قائم ہوں۔